میری والده کی جائیداد میں ایک گھر تھا۔ کیا میں اس گھر میں اپنا حصہ چھوڑ سکتا ہوں، حالانکہ میرا، ایک بیٹا اور ایک بیٹی بھی ہیں؟ کیونکہ اگر میں اپنا حصہ لوں تو ميرےبھائی گھر بیچ کر دوسرا گھر نہیں لے سكتے اور میں سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہوں اور الحمدللہ سیٹل ہوں۔ کیا اسلام مجھے ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے یا کیا یہ میرے بچوں کے ساتھ حق تلفی ہوگی؟
سائل کی والدہ مرحومہ کے ترکے میں جس طرح سائل کا بھائی حصہ دار ہے اسی طرح سائل بھی شرعا حصہ دار ہے،لیکن شرعا ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں اپنے مال و جائیداد کا تنہاء مالک ہوتا ہے اسے اپنے مال میں ہر قسم کے جائز تصرف کا حق حاصل ہوتا ہے،لہذا اگرسائل کی مالی حیثیت اچھی ہے جس کی وجہ سے سائل والدہ مرحومہ کے ترکے میں سے اپنا حصہ لینے کے بجائے اپنے بھائی کو دینا چاہے اور سائل کا مقصد اولاد کو محروم کرنا نہ ہو بلکہ مالی طور پر کمزور اپنے بھائی کے ساتھ تعاون و ہمدردی مقصود ہو تو شرعا ایسا کرنااولاد کی حق تلفی پر مبنی نہیں بلکہ جائز اور درست ہے۔البتہ ترکے میں سے فقط اپنا حصہ چھوڑنے یا معاف کردینے سے شرعا حق ساقط نہیں ہوتا اس لئے سائل کو چاہئے کہ یا تو ترکہ تقسم کرکے اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد اپنے بھائی کے حوالے کر دے یا ترکے میں سے اپنے حصے کے عوض بھائی سے کچھ (اگر چہ و ہ معمولی مقدار میں کیوں نہ ہو) وصول کرکے بھائی کے حق میں اپنے حصے سے دستبردار ہوجائے ،چنانچہ اس طرح کرنے سے سائل کا بھائی ترکے میں موجود سائل کے حصہ کا بھی مالک بن جائے گا۔
کمافی المرقاۃ شرح المشکاۃ لملا علی القاریؒ:تحت روایۃ نعمان بن بشیر۔رضی اللہ عنہ۔«أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما فقال: أكل ولدك نحلت مثله؟ قال: لا، قال: فأرجعه» . وفي رواية أنه قال: «أيسرك أن يكونوا إليك في البر سواء؟ قال: بلى، قال: فلا إذا» ، وفي رواية: أنه قال: «أعطاني أبي عطية فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى يشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله، قال: أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟ قال: لا، قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم. قال: فرجع فرد عطيته» . وفي رواية أنه قال: «لا أشهد على جور» . متفق عليه.
«وفي شرح السنة: في الحديث استحباب التسوية بين الأولاد في النحل، وفي غيرها من أنواع البر حتى في القبلة، ولو فعل خلاف ذلك نفذ. وقد فضل أبو بكر عائشة رضي الله عنهما بأحد وعشرين وسقا نحلها إياها دون سائر أولاده، وفضل عمر بن الخطاب رضي الله عنه عاصما في عطائه، وفضل عبد الرحمن بن عوف ولد أم كلثوم، قال القاضي رحمه الله: وقرر ذلك ولم ينكر عليهم فيكون إجماعا (متفق عليه) .»ج:5،ص:2009،ط:دارالفکر،بیروت،لبنان)
وفی الھندیۃ:
«هبة المشاع فيما يحتمل القسمة لا تجوز، سواء كانت من شريكه أو من غير شريكه، ولو قبضها، هل تفيد الملك ذكر حسام الدين - رحمه الله تعالى - في كتاب الواقعات أن المختار أنه لا تفيد الملك، وذكر في موضع آخر أنه تفيد الملك ملكا فاسدا وبه يفتى، كذا في السراجية.»(ج:4،ص:378،ط:دارالفکر،بیروت)
وفی الھدایہ:
«قال: "وإذا كانت الشركة بين ورثة فأخرجوا أحدهم منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض جاز قليلا كان ما أعطوه إياه أو كثيرا" لأنه أمكن تصحيحه بيعا. وفيه أثر عثمان، فإنه صالح تماضر الأشجعية امرأة عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه عن ربع ثمنها على ثمانين ألف دينار.»(ج:4،ص:198،ط:داراحیاء التراث العربی،بیروت)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0