السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب!ایک شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج دین کا حصہ نہیں ہیں اور وہ احادیثِ مبارکہ کو بھی نہیں مانتا
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ
1. ایسے شخص کو شرعاًً کیا کہا جائے گا؟ 2. کیا وہ دائرۂ اسلام میں رہتا ہے یا نہیں؟ 3. ایسے شخص کے ساتھ تعلقات رکھنا، میل جول کرنا، کھانا پینااور کاروبار کرناشرعاً کیسا ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔جزاکم اللہ خیراً
واضح رہے کہ نماز، روزہ،زکوٰۃ اور حج ارکانِ اسلام اور قرآن و حدیث و اجماع امت سے ثابت شدہ مسلمات اور ضروریات دین میں سے ہیں اور ان کا انکار کفر ہے ،جبکہ احادیثِ طیبہ کا مطلقاً انکار ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کے مترادف ہے جو کہ مستقل طور پر کفر ہے۔
لہٰذا صورتِ مذکورہ میں مذکور شخص اگر واقعۃً درجِ بالا کفریات کا اعتقاد رکھتا ہو اور برملا اس کا اظہار کرتا ہو تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج ،کافر اور مرتد ہے۔ جب تک وہ اپنے کفریہ عقائد سے توبہ تائب نہ ہو اس وقت تک اس سے کسی قسم کے معاشرتی تعلقات رکھنا جائز نہیں ہے۔ بلکہ اہلِ علاقہ اور اس کے قریبی متعلقین پر لازم ہے کہ اس کی اصلاح کی کوشش کرتے ہوئے مستند علماءِ کرام سے اس کی ملاقات کرائیں،تاکہ اگر لاعلمی کی وجہ سے اسے کوئی اشکال ہو تو اس کا دفعیہ کیا جا سکے، لیکن اس کے باوجود بھی اگر وہ اپنی کفریات پر قائم اور بضد رہے تو عامۃ الناس مسلمین کو اس کے مذکور اعتقادی شر سے محفوظ رکھنے کے لئے اس کے خلاف قانونی کارروائی کریں، از خود اپنی جانب سے کسی قسم کے اقدام کی شرعاً کوئی اجازت نہیں۔
جب کہ علاقے کے متعلقہ حکام پر بھی لازم ہے کہ جب ان کے سامنے مذکورکیس آئے یا انہیں اپنے ذرائع سے معلوم ہو تو مذکور شخص کے خلاف ایسی سخت تادیبی کارروائی کریں جو دوسروں کے لئے بھی عبرت بنے تاکہ پھر کوئی اور اس قسم کی گمراہی میں مبتلا نہ ہو۔
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ} [الممتحنة: ١]
و فی الدر المختار: (ويكفر جاحدها) لثبوتها بدليل قطعي الخ ( ج:01 ص:352 ط: دار الفكر-بيروت)۔
و فی بدائع الصنائع: وأما شرائط جواز إقامتها: فمنها ما يعم الحدود كلها، ومنها ما يخص البعض دون البعض، أما الذي يعم الحدود كلها فهو الإمامة: وهو أن يكون المقيم للحد هو الإمام أو من ولاه الإمام، وهذا عندنا الخ (كتاب الحدود، فصل في شرائط جواز إقامة الحدود، ج:7، ص:57، ط:دار الكتب العلمية)۔
و فی مرقاۃ المفاتیح: عن أبي أيوب الأنصاري -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «و لايحل للرجل أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال يلتقيان فيعرض هذا ويعرض ھذا، وخيرهما الذي يبدأ بالسلام ". متفق عليه.»
قال الخطابي: رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته، و لايجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى، فيجوز فوق ذلك. وفي حاشية السيوطي على الموطأ، قال ابن عبد البر: هذا مخصوص بحديث كعب بن مالك ورفيقيه، حيث أمر صلى الله عليه وسلم أصحابه بهجرهم، يعني زيادة على ثلاث إلى أن بلغ خمسين يوما. قال: وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق.( کتاب الاداب، باب ما ينهى عنه من التهاجر والتقاطع واتباع العورات، الفصل الاول ج: 8 ص: 3146ط: دارالفکر)۔
و فی عارضۃ الاحوذی لابن العربی المالکی: أما إن كانت الهجرة لأمر أنكر عليه من الدين كمعصية فعلها أو بدعة اعتقدها فليهجره حتى ينزع عن فعله وعقده فقد أذن النبي صلي الله عليه وسلم فى هجران الثلاثة الذين خلفوا خمسين ليلة حتى صحت توبتهم عند الله فاعلمه فعاد إليه الخ ( ابواب البر والصلۃ ج: 8 ص: 116ط: دارالکتب العلمیة)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1