السلام علیکم ، مفتی صاحب!
میرا سوال یہ ہے کہ اگر والد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد بیٹوں کے نام کی، اور اس میں بیٹیوں کو حصہ نہیں دیا ،کچھ بیٹیوں نے باپ کو کہا تھا کہ ہمیں نہیں چاہیے اور کچھ سے شایدبات نہیں ہوئی تھی، تو ان کی وفات کو اب سات سال گزر چکے ہیں، اور جائیداد بیٹوں کے نام کیے ہوئے 11 سال گزر گئے ہیں، اور قبضہ بھی بیٹوں کے پاس ہے 10 سال سے، کسی بھی بہن نے کوئی جائیداد کا تقاضا نہیں کیا، اب ایک بہن نے اپنے حصے کا تقاضا کیا ہے، کیا اب بھائیوں کو بہن کو حصہ دینا پڑے گا؟ اس بارے میں شریعت کی رو سے رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں سائل کے والد کا بغىر کسی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو جائیداد سے محروم کر کے ساری جائیداد بیٹوں کو دینا درست عمل نہیں تھا، اس سے گناہ گار ہوئے ہیں، تا ہم اگر والد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد بیٹوں کے نام کرتے ہوئے اس جائیداد کو ان میں باقاعدہ تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصہ پر قبضہ بھی دے دیا ہو، تو شرعا یہ ہبہ (گفٹ) مکمل ہو کر و ہ بیٹے اپنے اپنے حصہ کے مالک بن چکے ہیں، اور اب والد مرحوم کی وفات کے بعد کسی وارث یا بہن کا ان سے اس جائیداد میں حصہ داری کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، لہذا اسے اپنے اس مطالبہ سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کوئی بھائی اپنے حصے کے مذکور جائیداد میں سے اس کو کچھ دینا چاہے تو اس کا انہیں اختیار ہے اور باعث اجر اور ثواب بھی ہے، مگر ایسا کرنا اس پر لازم نہیں، تا ہم اگر مرحوم نے اس جائیداد کے علاوہ تركہ میں کچھ چھوڑا ہو، تو اس میں بیٹوں کے ساتھ بیٹیاں بھی حسب حصص شرعیہ حقدار ہوں گی۔
كما في الدر المختار: (وجعلته لك) لأن اللام للتمليك بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة وكذا هي لك حلال إلا أن يكون قبله كلام يفيد الهبة خلاصة اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة، (إلى قوله) وإن قال: جعلته باسم ابني، يكون هبة؛ لأن الناس يريدون به التمليك والهبة اهـ وفيه مخالفة لما في الخلاصة كما لا يخفى اهـ قال الرملي: أقول: ما في الخانية أقرب لعرف الناس تأمل اهـ (إلى قوله) (قوله: ليس بهبة) بقي ما لو قال: ملكتك هذا الثوب مثلا، فإن قامت قرينة على الهبة صحت، وإلا فلا لأن التمليك أعم منها لصدقه على البيع والوصية والإجارة وغيرها اهـ [كتاب الهبة، ج:5 ص:689 ط: سعيد]
وفي الفتاوى الهندية: ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك، والإذن تارة يثبت نصا وصريحا وتارة يثبت دلالة اهـ [كتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، ج:4 ص:377 ط: دار الفكر بيروت]
وفي الدر المختار: (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته اهـ (كتاب الوصايا، ج:6 ص:655و656 ط: سعيد)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0