ہم چار بھائی اور چار بہنیں ہیں، اور ہماری والدہ بھی الحمد للہ حیات ہیں۔ ہمارے والد کا انتقال ہو چکا ہے۔ انہوں نے ایک گھر چھوڑا تھا، جس میں اس وقت چاروں بھائی اور ہماری والدہ رہ رہے ہیں۔ ہماری چاروں بہنیں شادی شدہ ہیں۔
یہ گھر والد کی زندگی میں پرانے گھر کو گرا کر چاروں بھائیوں نے تعمیر کیا تھا۔ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی بہنوں کو وراثت میں ان کا حصہ دیا جائے۔
تعمیر سے پہلے پرانے گھر کی موجودہ مارکیٹ ویلیو **70,00,000 روپے** ہے، جبکہ تعمیر کے بعد موجودہ گھر کی مالیت **1,20,00,000 روپے** ہے۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی بہنوں کو وراثت کا حصہ پرانے گھر کی مالیت یعنی **70,00,000 روپے** کی بنیاد پر دیں، کیونکہ تعمیر چاروں بھائیوں نے کی تھی، یا پھر تعمیر شدہ گھر کی موجودہ مالیت یعنی **1,20,00,000 روپے** کی بنیاد پر ان کا حصہ دینا ہوگا؟
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سائل اور اس کے دیگر بھائیوں کی والد صاحب کے مذکور مکان کی تعمیر نو کے وقت کوئی معاہدہ اور بات چیت ہوئی تھی یا نہیں تا کہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر سائل اور اس کے بھائیوں نے والد کے کہنے پر والد مرحوم کے لئے ہی یہ تعمیر ات کئے تھے ،توایسی صورت میں یہ تعمیرات تو شرعاً والد کی ملکیت شمارہو ں گی ،چنانچہ اب نئی تعمیرات سمیت پورا مکان والد حوم کا تر کہ شمار ہو گا جو کہ تمام ورثاء کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم کیا جائے گا ، البتہ اس صورت میں تعمیرات چونکہ والد کے کہنے پر کی گئی ہیں ، اس لئے ان تعمیرات پر آنے والے اخراجات والد کے ذمہ واجب الاداء تھے ، اب اگر اس نے اپنی زندگی میں یہ اخراجات بیٹوں کو ادا نہ کیے ہوں تو اب بیٹوں کے لیے تعمیر کے وقت (نہ کہ موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ) خرچ کردہ رقم کے بقدر تر کے میں سے وصول کرنا جائز ہو گا ،اس کے بعد بقیہ تر کہ تمام اولاد (بیٹے ، بیٹیوں ) میں حسب حصص شرعی تقسیم ہو گا ، تاہم اگر معاملے کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی مکمل وضاحت کر کے سوال دوبارہ ای میل کردے تو اس پر غور فکر کے بعد ان شاءاللہ حکم شرعی سے آگاہ کیا جائے گا ۔
وفی درر الحکام : «تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح) تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما،» اھ («(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك، ج:3 ص: 26 ناشر :دار جیل )
وفی البحر الرائق : «قال رحمه الله (ولو عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها؛ لأن الملك لها) وقد صح أمرها بذلك فينتقل الفعل إليها فتكون كأنها هي التي عمرته فيبقى على ملكها وهو غير متطوع بالإنفاق فيرجع لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين قال رحمه الله (ولنفسه بلا إذنها فله) أي إذا عمر لنفسه من غير إذن المرأة كانت العمارة له؛ لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه ويكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك» الخ،( مسائل فی الختان والتداوی والزینۃ ،ج: 8 ص: 553 ناشر : الثانیۃ)
وفی تنقیح الحامدیۃ : «في رجل بنى بماله لنفسه قصرا في دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه وعن ورثة غيره فهل يكون القصر لبانيه ويكون كالمستعير؟» «نعم كما صرح بذلك في حاشية الأشباه من الوقف عند قوله كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ ومسألة العمارة كثيرة ذكرها في الفصول العمادية والفصولين وغيرها وعبارة المحشي بعد قوله ويكون كالمستعير فيكلف قلعه متى شاء.»اھ،(کتاب العاریہ ،ج: 2 ص؛81 ناشر : دار المعرفۃ)
وفی دررالحکام: «وصرف من ماله قدرا معروفا فله الرجوع على شريكه بحصته أي أن يأخذ من شريكه مقدار ما أصاب حصته من المصرف) إذا عمر أحد الشريكين الملك المشترك ففي ذلك احتمالات أربعة:الاحتمال الأول - أن يكون المعمر صرف بإذن وأمر الشريك الآخر من ماله قدرا معروفا وعمر الملك المشترك للشركة أو أنشأه مجددا فيكون قسم من التعميرات الواقعة أو البناء ملكا للشريك الآمر ولو لم يشترط الشريك الآمر الرجوع على نفسه بالمصرف بقوله: اصرف وأنا أدفع لك حصتي من المصرف»«الاحتمال الرابع - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة. انظر شرح المادة (529) ما لم يكن رفعها مضرا بالأرض ففي هذا الحال يمنع من رفعها» (المادۃ ،1309 عمر احد الشریکین ملک المشترک باذن الآخر،ج: 3ص؛ 313 ناشر:دار جیل)
وفی بدائع الصنائع : لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا، والله سبحانه وتعالى أعلم.اھ( فصل فی شرائط جواز الحدود،ج:7 ص؛57 ناشر سعید )
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0