معزز علماء کرام اور مفتیانِ عظام سے درج ذیل مسئلہ کے بارے میں رہنمائی مطلوب ہے،مجھے یہ رہنمائی درکار ہے کہ اگر خاوند فوت ہو جائے اور خاوند نے چونکہ کافی سال پہلے اپنی بیوی کو شادی پہ ساڑھے سات تولے زیور پہنایا تھا اور وہ زیور اس کی بیوی نے امانت اپنی ساس کےپاس رکھا تھا اور اس کے بعد ساس اور دیور اس پہ قابض ہو گئے جو بیوہ ہے وہ مانگتی رہی زیور، لیکن انہوں نے زیور نہ دیے، تب تو خاوند بھی زندہ تھا اور اب چونکہ خاوند تقریبا آٹھ ماہ پہلے فوت ہو چکا ہے تو بیوہ دوبارہ مطالبہ کر رہی ہے کہ جو آٹھ ساڑھے سات تولے زیور تھا وہ مجھے واپس کر دیں اور ان کا خاوند فوت ہو چکا ہے ،مرحوم کی ماں ،اس کا ایک بڑا بھائی اور اس کی ایک بہن پہلے فوت ہو چکی تھی، ان کے ترکے میں سے بھی وہ کہتی ہے کہ اس کو بھی اکٹھا کر کے اس میں جو میرے خاوند کا حصہ بنتا ہے اس میں سے ایک بٹہ چار حصہ سا مجھے دیا جائے اور جو میرا بیوہ کے پاس چونکہ قبضے میں مرحوم کا ایک گھر اور ایک دکان ہے ،وہ کہتی ہے پھر اس پہ بھی وراثت کر لیتے ہیں ،تو اس کے بارے میں ہمیں رہنمائی درکار ہے کہ اس کے بارے میں کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے ؟کائنڈلی مجھے فتوی کی صورت میں براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں، آپ کو اجر دیا جائے گا۔
صورتِ مسئولہ میں شادی کے موقع پر خاوند نے جوسونا پہنایاتھااس کےمتعلق اگر بطورِ ملک دینے کی صراحت کی ہو تو بیوہ اس زیور کی مالک ہوگی لیکن اگر خاوند نے اس وقت عاریۃ (یعنی صرف استعمال کے لیے لڑکی کو زیور) دینے کی صراحت کی ہو تو پھر وہ زیور بیوہ کی ملکیت نہیں ہوگا، بلکہ خاوند کی ملکیت ہی شمار ہوگا، تاہم اگر کسی قسم کی کوئی صراحت نہ کی ہو تو ایسی صورت میں بیوہ کا اس سونےکا مالک بننے یا نہ بننے میں خاندانی عرف اور رواج کا اعتبار ہو گا، چنانچہ اگر خاندانی عرف اور رواج میں شادی کے موقع پر عورت کو دیاجانےوالاسونا وغیرہ با قاعد ہ مالکانہ طور پر دیا جاتاہو تو عورت اس کی مالک سمجھی جائے گی لیکن اگر خاندانی عرف میں یہ چیزیں فقط استعمال کیلئے دی جاتی ہوں تو عورت ان چیزوں کی مالک نہ ہو گی(ازتبویب:65994) چنانچہ مندرجہ بالا تفصیل کے مطابق اگر سونا بیوی کی ملکیت ہونا ثابت ہو جائے تو ایسی صورت میں بیوی کی ساس اور دیور کا اس سونے پر قابض ہو جانا ظلم اور غصب پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعا ناجائز اور حرام ہے،لہذا ساس اور دیور کے ذمہ وہ سونا بیوی کے حوالے کرنا لازم ہوگا بصورت دیگر بیوی کو قانونی چارہ جوئی کا بھی حق حاصل ہے ،البتہ اگر وہ سونا عورت کی ملکیت ہونا ثابت نہ ہو بلکہ شوہر کی ہی ملکیت ثابت ہوجائے تو چونکہ اب شوہر کا انتقال ہو چکا ہے اور شوہر کی تمام مملوکہ اشیاء ان کا ترکہ بن چکی ہیں جو کہ مرحوم کےتمام ورثاء میں شریعت کے متعین کردہ حصص کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہے، اس لئے دوسری صورت میں بھی ساس اور دیور پر لازم ہے کہ مذکور سونا یا اس کے علاوہ مرحوم شوہر نے بوقت انتقال جو کچھ اپنی ملکیت میں چھوڑا تھااس میں سے بیوہ کو اس کا شرعی حصہ حوالہ کرکےمؤاخذہ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کریں۔
کمافی ردالمحتار : (قوله: وكذا زفاف البنت) أي على هذا التفضيل بأن كان من أقرباء الزوج أو المرأة أو قال المهدي.أهديت للزوج أو المرأة كما في التتارخانية.وفي الفتاوى الخيرية سئل فيما يرسله الشخص إلى غيره في الأعراس ونحوها هل يكون حكمه حكم القرض فيلزمه الوفاء به أم لا؟ أجاب: إن كان العرف بأنهم يدفعونه على وجه البدل يلزم الوفاء به مثليا فبمثله، وإن قيميا فبقيمته وإن كان العرف خلاف ذلك بأن كانوا يدفعونه على وجه الهبة، ولا ينظرون في ذلك إلى إعطاء البدل فحكمه حكم الهبة في سائر أحكامه فلا رجوع فيه بعد الهلاك أو الاستهلاك، والأصل فيه أن المعروف عرفا كالمشروط شرطا اهـ(کتاب الھبۃ،ج:5،ص:696،ط:سعید)
وفيه ايضاَ:قال في النهر: وأقول وينبغي أن لا يقبل قوله أيضا في الثياب المحمولة مع السكر ونحوه للعرف. اهـ. قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا(مطلب فيما يرسله إلى الزوجة،ج:3،ص:153،ط:سعيد)
وفي الهنديه:وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية.( الفصل السادس عشر في جهاز البنت،ج:1،ص:327،ط:ماجديه)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0