قرآن و حدیث کے آداب و احکام

قرآن پاک میں سجدہ تلاوت ادا کرنے کی تفصیل

فتوی نمبر :
93944
| تاریخ :
0000-00-00
آداب / شعائر اسلام / قرآن و حدیث کے آداب و احکام

قرآن پاک میں سجدہ تلاوت ادا کرنے کی تفصیل

السلام علىكم ورحمۃ الله ، مفتى صاحب!
سجدۂ تلاوت کن لوگوں پر واجب ہوتا ہے اور کن صورتوں میں واجب ہوتا ہے؟ نماز کے اندر اگر سجدے کی آیت تلاوت کی جائے تو سجدۂ تلاوت ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ رمضان المبارک میں تراویح کی تلاوت کے دوران بعض اوقات حفاظ کو شبہ ہو جاتا ہے اور وہ سجدے کی آیت پڑھے بغیر ہی سجدہ کر لیتے ہیں، حالانکہ آیتِ سجدہ تلاوت نہیں کی ہوتی۔ ایسی صورت میں اس نماز کا کیا حکم ہوگا؟ جو آیتِ سجدہ تلاوت نہیں کی گئی، کیا اسے بعد میں پڑھا جاسکتا ہے؟ اگر بعد میں پڑھ لی جائے تو کیا سجدہ واجب ہوگا؟ اگر وہ آیت بالکل ہی نہ پڑھی جائے تو کیا قرآنِ کریم کا ختم مکمل شمار ہوگا؟ رمضان میں تراویح کے اندر قرآنِ کریم ختم کرنے کے لیے کتنے دن میں ختم کرنا بہتر ہے؟ براہِ کرم ان تمام سوالات کے مدلل اور مختصر جوابات عنایت فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ سجدۂ تلاوت ان آیات کے پڑھنے یا سننے پر واجب ہوتا ہے جنہیں آیاتِ سجدہ کہا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص ان آیات میں سے کسی آیت کی تلاوت کرے یا خود سنے تو اس پر سجدۂ تلاوت واجب ہو جاتا ہے۔چنانچہ اگرکوئی عاقل بالغ مسلمان ، آیتِ سجدہ کونماز کے اندر یا باہر، خود پڑھے یا سن لے، تواس پرسجدہ تلاوت واجب ہوجاتاہے۔
البتہ نابالغ بچے پرآیت سجدہ کی تلاوت کرنے یاسننے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا، اگرچہ سجدہ کرنا اس کے لیےبھی بہتر اورمستحب ہے۔ اسی طرح حائضہ اور نفاس والی عورت پرناپاکی کی حالت میں آیت سجدہ سننےسے سجدہ واجب نہیں ہوتا، بلکہ پاکی کے بعد بھی اس کی قضا لازم نہیں ہوتی۔اوروجوب کی صورت یہ ہے کہ آیتِ سجدہ کو براہ راست سن لیا جائے،خواہ یہ سنناارادے کے ساتھ ہویابلاارداہ ،آمنےسامنےتلاوت ہورہی ہویاکسی آلہ(لاؤڈاسپیکر،ریڈیو،موبائل،یاٹی وی وغیرہ )کےزریعے براہ راست نشریات کے ضمن میں سناجائےالبتہ اگرآلات سے سننابراہ راست نشریات کے زریعے نہ ہوبلکہ پہلےسے ریکارڈشدہ تلاوت کی نشریات کی سماعت ہو، تو اس پر سجدہ واجب نہیں ہو گا۔نیزاگر ایک ہی آیت کو ایک مجلس میں بار بار پڑھا یا سنا جائے تو ایک ہی سجدہ کافی ہوتا ہے، اور اگر مختلف مجالس میں ہو تو ہر مرتبہ الگ سجدہ واجب ہوگا۔
جبکہ نماز کے اندر اگر آیتِ سجدہ کی تلاوت کی جائے تو سجدۂ تلاوت اسی نماز کے اندر ادا کرنا واجب ہوتا ہے، جس افضل طریقہ یہ ہے کہ آیتِ سجد ۂ پڑھنے کے بعد فوراً اللہ اکبر کہہ کر الگ ایک سجدہ کیا جائے، پھر کھڑے ہو کر تلاوت جاری رکھی جائے اور بعد میں حسبِ معمول رکوع و سجدہ ادا کیے جائیں البتہ اگرکسی شخص نےالگ سے مستقلاًسجد ۂ تلاوت نہیں کیابلکہ تلاوت کے بعد فوراً یا کچھ آیات پڑھنے کے بعد رکوع کرلیا، اوررکوع میں جاتے وقت سجد ۂ تلاوت کی نیت بھی کرلی تو وہی رکوع سجدۂ تلاوت کے قائم مقام ہو جائے گا، تاہم، اگر نمازی نے الگ سے سجدہ نہ کیا ہواور رکوع میں بھی اس کی نیت نہ کی ہو، تو پھر آخر میں نماز کے سجدے بھی اس کے قائم مقام ہو جاتے ہیں، لیکن یہ صورت مکروہ ہے اور احتیاط اسی میں ہے کہ سجد ۂ تلاوت مستقل سجدہ کی صورت میں یا پھررکوع کے ذریعے اسے ادا کر لیا جائے۔
۔ اگر تراویح کی نماز کے دوران آیتِ سجدہ تلاوت کیے بغیر محض شبہ کی بنا پر سجدۂ تلاوت کر لیا گیا، تو چونکہ حقیقت میں آیتِ سجدہ پڑھی ہی نہیں گئی تھی، اس لیے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوا تھا، لہٰذا کیا گیا سجدہ زائد (اضافی) شمار ہوگا۔ اور نماز میں کسی زائد فعل کے واقع ہونے کی وجہ سے سجدۂ سہو واجب ہو جاتا ہے۔چنانچہ اگر اس کے بعد سجدۂ سہو کر لیا جائے تو نماز درست اوربلا نقصان ادا ہو جائےگی، اور اگر سجدۂ سہو نہ کیا گیا تو اس صورت میں اس نماز کا وقت کے اندر اعادہ واجب ہوگا۔ تاہم اگر وقت اندر اعادہ نہ کیا گیا تو اس صورت میں نمازدوبارہ پڑھنا لازم نہیں، بلکہ نماز نقصان (کراہت) کے ساتھ ادا ہو جائےگی۔
رہی وہ آیتِ سجدہ، تو چونکہ وہ تلاوت ہی نہیں کی گئی، اس لیے بعد میں جب بھی اس آیت کو پڑھا جائے گا تو اسی وقت سجدۂ تلاوت واجب ہوگا۔ اور اگر اس آیت کو بالکل ہی نہ پڑھا جائے تو ختمِ قرآن مکمل نہیں ہوگا، لہٰذا اس کی تلاوت کرکے ختم کی تکمیل ضروری ہوگی۔
رمضان المبارک میں تراویح کے اندر قرآنِ کریم ختم کرنے کے لیے اصل مقصود یہ ہے کہ پورے مہینے میں ایک مرتبہ مکمل قرآن سنایا جائے، لہٰذا بہتر اور معمول طریقہ یہ ہے کہ ہر دن ایک پارہ پڑھتےہوئے30 دن میں ایک ختم کیا جائے۔
البتہ اگر کسی جگہ سہولت ہو اور مقتدیوں پر مشقت نہ ہو تو حالات کے مطابق کمی بیشی کی بھی گنجائش ہے ،لیکن اس سب میں نمازیوں کی حالت، سہولت اور خشوع کا لحاظ ضروری ہے، تاکہ ان پرغیرضروری بوجھ نہ پڑے۔جبکہ بعض اہل علم نے"لیلۃ القدر"کی مناسبت سے ستائیس شب میں تکمیل قرآن کےاہتمام کوافضل قراردیاہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي الدر المختار: (بشرط سماعها) فالسبب التلاوة وإن لم يوجد السماع، كتلاوة الأصم والسماع شرط في حق غير التالي ولو بالفارسية إذا أخبر (أو) بشرط (الائتمام) أي الاقتداء (بمن تلاها) فإنه سبب لوجوبها أيضا، إن لم يسمعها ولم يحضرها للمتابعة.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله فالسبب التلاوة إلخ) أي التلاوة الصحيحة وهي الصادرة ممن له أهلية التمييز.اهـ (كتاب الصلاة، سجدة التلاوة، ج: 2، ص: 104-105، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر أيضا: (على من كان) متعلق بيجب (أهلا لوجوب الصلاة) لأنها من أجزائها (أداء) كالأصم إذا تلا (أو قضاء) كالجنب والسكران والنائم (فلا تجب على كافر وصبي ومجنون وحائض ونفساء قرءوا أو سمعوا) لأنهم ليسوا أهلا لها (وتجب بتلاوتهم) يعني المذكورين.إلخ
وفي رد المحتار: (قوله وتجب بتلاوتهم) أي وتجب على من سمعهم بسبب تلاوتهم ح.اهـ (ج: 2، ص: 107)
وفي الدر أيضا: (وتؤدى بركوع وسجود) غير ركوع الصلاة وسجودها (في الصلاة وكذا في خارجها ينوب عنها الركوع) في ظاهر المروي بزازية (لها) أي للتلاوة (و) تؤدى (بركوع صلاة) إذا كان الركوع (على الفور من قراءة آية) أو آيتين وكذا الثلاث على الظاهر كما في البحر (إن نواه) أي كون الركوع (لسجود) التلاوة على الراجح (و) تؤدى (بسجودها كذلك) أي على الفور (وإن لم ينو) بالإجماع. ولو نواها في ركوعه ولم ينوها المؤتم لم تجزه ويسجد إذا سلم الإمام ويعيد القعدة، ولو تركها فسدت صلاته. إلخ
وفي رد المحتار: (قوله على الفور إلخ) فلو انقطع الفور لا بد لها من سجود خاص بها ما دام في حرمة الصلاة وعلله في البدائع بأنها صارت دينا والدين يقضى بما له لا بما عليه والركوع والسجود عليه فلا يتأدى به الدين. اهـ.(إلى قوله) وفي الإمداد الاحتياط قول شيخ الإسلام خواهر زاده بانقطاع الفور بالثلاث. وقال شمس الأئمة الحلواني: لا ينقطع ما لم يقرأ أكثر من ثلاث وقال الكمال بن الهمام: قول الحلواني هو الرواية. اهـ. قلت: وصرح في شرح المنية بأنه الأصح رواية، فإن محمدا نص على أنه إذا بقي بعد السجدة آيات من آخر السورة أي كسورة الانشقاق وسورة بني إسرائيل إن شاء ختم السورة وركع لها وإن شاء سجد لها ثم قام فأكمل السورة ثم ركع اهـ ومثله في الفتح. لكن في البحر عن المجتبى أن الركوع ينوب عنها بشرط النية وأن لا يفصل بثلاث إلا إذا كانت الثلاث من آخر السورة. اهـ.
(إلى قوله) (قوله أي كون الركوع لسجود التلاوة) الأولى قول الإمداد أي نوى أداءها فيه اهـ ثم إن النية محلها عند إرادة الركوع فلو نواها فيه قيل يجوز وقيل لا ولو بعد الرفع منه لا يجوز بالإجماع بدائع.
(إلى قوله) (قوله لم تجزه) أي لم تجز نية الإمام المؤتم ولا تندرج في سجوده وإن نواها المؤتم فيه لأنه لما نواها الإمام في ركوعه تعين لها أفاده ح.اهـ (كتاب الصلاة، سجدة التلاوة، ج: 2، ص: 111-112، ط: إيج إيم سعيد )
كما في الهندية: الأصل في هذا أن المتروك ثلاثة أنواع فرض وسنة وواجب ففي الأول أمكنه التدارك بالقضاء يقضي وإلا فسدت صلاته وفي الثاني لا تفسد؛ لأن قيامها بأركانها وقد وجدت ولا يجبر بسجدتي السهو وفي الثالث إن ترك ساهيا يجبر بسجدتي السهو وإن ترك عامدا لا، كذا التتارخانية. وظاهر كلام الجم الغفير أنه لا يجب السجود في العمد وإنما تجب الإعادة جبرا لنقصانه، كذا في البحر الرائق.اهـ (الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج: 1، ص: 126، ط: مكتبة ماجدية)
وفي الدر المختار: (قوله ‌قدر ‌أداء ‌ركن) أي بسنته منية. قال شارحها: وذلك قدر ثلاث تسبيحات اهـ (باب شروط الصلاة، ج: 1، ص: 408)
وفيه أيضا: (ولها واجبات) لا تفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقا.اهـ (واجبات الصلاة، ج: 1، ص: 456، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (و) يفسدها (كل عمل كثير) ليس من أعمالها ولا لإصلاحها.إلخ
وفي رد المحتار: (قوله ليس من أعمالها) احتراز عما لو زاد ركوعا أو سجودا مثلا فإنه عمل كثير غير مفسد لكونه منها غير أنه يرفض لأن هذا سبيل ما دون الركعة ط.اهـ (كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1، ص: 624، ط: إيج إيم سعيد )
وفي المحيط البرهاني: قال القاضي الإمام أبو علي النسفي رحمة الله عليه، إذا قرأ بعض القرآن في سائر الصلوات بأن كان القوم الختم في التراويح، فلا بأس به. ويكون لهم ثواب الصلاة، ولا يكون لهم ثواب الختم.اهـ (‌‌الفصل الثالث عشر في التراويح والوتر، ج: 1، ص: 459، ط: دار الكتب العلمية بيروت لبنان)
وفيه أيضا: أن السنة الختم في التراويح مرة (إلى قوله) قال مشايخ بخارى: وينبغي للإمام إذا أراد الختم أن يختم في ليلة السابع والعشرين، أكثره ما جاء في الأخبار فيها أنها ليلة القدر، وإذا غلط في القراءة في التراويح، فترك سورة أو آية وقرأ ما بعدها، فالمستحب له أن يقرأ المتروكة ثم المقروءة ليكون قد قرأ القرآن على نحوه.اهـ (‌‌الفصل الثالث عشر في التراويح والوتر، ج: 1، ص: 459-460، ط: دار الكتب العلمية بيروت لبنان)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93944کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • قرآنِ کریم کو چھونے کیلئے وضو ضروری ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   اسکین   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • قرآنی سورتوں پر مشتمل کتاب بغیر وضو کے چھونا

    یونیکوڈ   اسکین   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 1
  • کیا فرشتے قرآن پڑھ سکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   انگلش   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 3
  • سورۃ ملک کی فضیلت کی تحقیق

    یونیکوڈ   اسکین   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • تبلیغی جماعت اور اننچاس کروڑ کے ثواب کی تحقیق

    یونیکوڈ   اسکین   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 2
  • قرآن کے بوسیدہ اوراق کا حکم - مقدس اوراق کو جلانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 3
  • محض بھول جانے کی خوف سے بچوں کو حفظ نہ کرانا

    یونیکوڈ   اسکین   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • حافظہ قرآن کا شادی کے بعد قرآن یاد نہ کرسکنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • موبائل میں موجود قرآن کریم کے ساتھ باتھ روم جانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 2
  • دوران تلاوت قرآن کریم کی صفحات پرموبائل یا کوئی وزنی چیزرکھنا

    یونیکوڈ   اسکین   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 2
  • قرآن کا مستند انگلش ترجمہ کونسا ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • تعددازواج سے متعلق قرآن وحدیث کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • بغیر وضو کے قرآن کو غلطی سے چھونے کا کفارہ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 1
  • اوراق مقدسہ کو جلاکردفن کرنے کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 1
  • غیرمسلم کو پڑھاناجائزہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • روز ایک حدیث و آیت کی ایس ایم ایس سروس

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • اسکرین پر قرآنِ کریم کی تلاوت کے لیے وضو کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • کیا غیر مسلم کو قرآن پاک دے سکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • قرآنِ کریم گرنے کی صورت میں کتنا فدیہ یا کفارہ دے؟

    یونیکوڈ   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • اسکرین سے دیکھ کر بغیر وضو ، قرآن پاک پڑھنا-جنابت (ناپاکی) کی حالت میں قرآن سننا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • بے وضو شخص کیلئے موبائل پر تلاوتِ قرآن مجید کا حکم

    یونیکوڈ   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟

    یونیکوڈ   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • نئی عمارت وغیرہ پر بطورِ تبرک قرآنی کلمات لکھوانا

    یونیکوڈ   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
  • آفس میں کرسی پر بیٹھ کر جوتے پہنے قرآن پڑھنا

    یونیکوڈ   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 2
  • موبائل میں قرآن پڑھنا - کیا ثواب ملے گا؟

    یونیکوڈ   قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0
Related Topics متعلقه موضوعات