ایک عمر رسیدہ غیر شادی شدہ خاتون کی ملکیت میں کچھ رقم اور زیورات موجود ہیں۔ خاتون کے رشتہ داروں میں دو چھوٹے بھائی شادی شدہ ہیں، جن کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں؛ اور اس خاتون کی ایک چھوٹی بہن شادی شدہ ہے، جن کے شوہر اور دو بیٹیاں ہیں؛ اور اس خاتون کی بڑی بہن کا انتقال ہو چکا ہے، لیکن ان کے بیٹے بیٹیاں موجود ہیں۔ ایسی صورت میں اس خاتون کے انتقال کر جانے کی صورت میں ان کے اصل وارث اور جائیداد کے حق دار کون ہوں گے؟ اور اگر وہ اپنی زندگی میں ان میں سے کسی کو کچھ ہبہ یا کچھ جائیداد کا تصرف دینا چاہیں، تو اس کی کیا صورت ہوگی؟
پہلے یہ بات واضح ہو کہ ہر شخص(مرد ہو یا عورت) اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے۔وہ جس طرح چاہے اس میں جائز تصرف کر سکتا ہے۔ اس لیے اگر مذکورہ عورت زندگی میں اپنی مرضی سے کسی کو کچھ ہبہ کرنا یا کچھ جائیداد کا تصرف دینا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہے اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلائے گا۔ البتہ جس کو جو کچھ ہبہ کرے اس کو اس کے حصے پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے،صرف زبانی کلامی بول دینا کافی نہیں ہوگا۔اور اس طرح ہبہ کرنے کے بعد ہبہ کردہ چیز اس کی ملکیت سے نکل جائے گی جس کے نتیجے میں مذکور خاتون کی وفات کےبعد اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی جبکہ دوسری بات جس کا تعلق مذکور عمر رسیدہ خاتون کے ہونے والے ورثاء سے ہے تو واضح ہو کہ کسی شخص کی وراثت کے احکامات نیز ورثاء کی تعیین اس کے انتقال کے بعد ہی کی جاسکتی ہے ،لہذا مذکور عمر رسیدہ خاتون کے انتقال کے وقت دیکھا جائے گا کون کون زندہ ہیں تاکہ بتایا جاسکے کہ وہ وارث بنتا ہے یا نہیں ؟اس لئے مرحومہ کے انتقال کے وقت پسماندگان کی تفصیل بتا کر وراثت کی تقسیم کا طریقہ معلوم کیا جاسکتا۔
وفی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا الخ(کتاب الھبۃ،ج:6،ص: 691-690 ،ط: سعید)
و فی المبسوط : إنما تحقق الوجوب لہ عند الموت ولأن المانع صفۃ الوراثۃ و لا یعرف ذلک الا عند الموت لأن صفۃ الوراثۃ لا تکون الا بعد بقاء الوارث حیاً بعد موت المورث الخ (کتاب الفرائض باب الوصیۃ للوارث، ج: 27 ،صـ :17 ،ط : دار الکتب العلمیۃ)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0