ایک بیوہ خاتون اپنی جائیداد کی وصیت کرنا چاہتی ہے جو اس کے انتقال کے بعد اس کے دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کے درمیان تقسیم ہوسکے ۔ اس معاملے میں شریعت اس خاتون کے لیۓ کیا حکم دیتی ہے ؟
ان ہی بیوہ خاتون کے شوہر کی اپنی کچھ جائیداد ، روپیہ پیسا ، سامان اور کاروبار ہندوستان میں تھا جس کی وہ وصیت کیۓ بغیر انتقال کر گۓ ، اب ان خاتون کو وہاں جا کر وہ سب کچھ اپنے نام منتقل کروانا ہوگا اور پھر اس کی تقسیم اپنے دو بیٹوں ، تین بیٹیوں اور خود اپنے درمیان کرنی ہوگی ، اس معاملے میں شرعی حکم کیا ہے ؟
واضح ہو کہ وارث کے حق میں کی گئی وصیت دیگر ورثاء کی رضامندی کے بغیر شرعاً نافذ نہیں ہوتی؛ کیونکہ شریعت نے وارثوں کے حصے خود مقرر فرما دیے ہیں، اس لیے وارث کے لیےالگ سے وصیت کا اعتبار نہیں کیا گیا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بیوہ خاتون اگر اپنے دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کے حق میں وصیت کرتی ہیں تو یہ وصیت شرعاً لازم نہ ہوگی، بلکہ ان کی وفات کے وقت موجود تمام شرعی ورثاء کو حسبِ حصصِ شرعیہ ترکہ میں حصہ ملے گا۔البتہ اگر بیوہ خاتون اولادکومذکورجائیدادخود اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرکے دینے کی خواہاں ہوں ،تواس کے لیے وصیت کاطریقہ اختیارکرنے کےبجائے ہبہ کا طریقہ اختیار کرنا چاہیئے،جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ مذکورہ بیوہ خاتون اپنی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنے مذکوربیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعا بھی درست ہو جائے ، محض کاغذات میں نام کر دینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر و یکساں رکھے ، کسی کو کم ،کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اسکی اولاد ہیں ، البتہ اگر کسی کی خدمت گزاری ، دینداری ، معذوری و غیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو شرعا ْاس کی بھی اجازت ہے ، مگر بلا وجہ کسی ایک کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
نیز بیوہ خاتون کےمرحوم شوہر کی ہندوستان میں موجود جائیداد، نقدی، سامان اور کاروبار مرحوم کے تمام شرعی ورثاء، یعنی بیوہ، دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہے، جس میں بیوہ صرف اپنے مقررہ شرعی حصے کی ہی حق دار ہوں گی۔مذکوربیوہ خاتون کامرحوم شوہرکی جائیدادتنہااپنے نام منتقل کرنادرست نہیں ،جس سے احترازلازم ہے۔
کمافي الفتاویٰ الهندية: ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، (إلى قوله) ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي (إلى قوله) ويعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية.اهـ (ج: 6، الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها، ص: 90، مط: ماجدية)
وفيه ايضاً: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار،الخ(ج:4، الباب السادس فى الهبة للصغير ص: 391، مکتبۃ ماجدیۃ)۔
وفی الدرالمختار:( وتتم)الهبة( بالقبض)الكامل(ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به)والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها۔الخ(ج:5، كتاب الهبة، ص:690، مط:سعید)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1