میرے دادا جان نے یکے بعد دیگرے چار شادیاں کین،اور ہر شادی ایک بیوی کے وفات کے بعد کی، پہلی بیوی فوت ہوئی ،تو دوسری شادی اور دوسری کے وفات کے بعد تیسری شادی کی، اور تیسری کی وفات کے بعد چوتھی شادی کی،پہلی بیوی سے ایک بیٹی دو بیٹے ہوئے،اس کے بعد دوسری تیسری چوتھی بیویوں سے ایک ایک بیٹا ہوا،پھر دادا کے وفات کے بعد اس کا ترکہ ان ورثا میں تقسیم ہوا،پھر پہلی بیوی سے جو بیٹی تھی وہ وفات پا گئی، اور اس کے اولاد موجود ہیں، اور اس کے بعد بیٹا بھی وفات ہوا ،اس کے بھی اولاد ہیں، لیکن جو تیسرا بیٹا عالم بھی تھا، اور اس کی زہنی توازن میں مسلہ پیدا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس کی شادی ہی نہیں ہوئی، وہ بھی وفات پا گیا،اب سوال یہ ہے کہ اس کی جائیداد ترکہ کس کو ملے گا؟کیا اسکی جائداد اس کے تین سو تیلے بھائیوں کو ملے گا یا پھر اس کے سگی بہن اور سگا بھائی کے اولاد کو ملے گا؟ پہلی شادی سے دو سگے بھائی اور ایک سگی بہن تھی،اور سگی بہن پہلے فوت ہوئی اور پھر اس کا سگا بھائی فوت ہوا ،پھر وہ خود فوت ہو گیا،براہ مہربانی شریعت محمدی کے اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں؟
صورتِ مسئولہ جس غیر شادی شدہ بھائی کا انتقال ہوا ہے، اس کے ورثاء میں جب مذکور تین علاتی بھائی (باپ شریک بھائی )حیات ہیں،تو ان کی موجودگی میں اس بھائی کے بھانجوں یا بھتیجوں کااس کے ترکہ میں شرعاََ کوئی حصہ نہیں ، اور نہ ہی انہیں اس ترکہ میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہوگا، بلکہ یہ ترکہ ان علاتی بھائیوں کےدرمیاں حسب حصص شرعی تقسیم ہو گا۔
كما في الهندية: فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم اھ (الباب الثالث في العصبات، ج: ٦، ص: ٤٥١، ط: ماجدية)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0