محترم مفتیان کرام !السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ایک وراثتی جائیداد کی تقسیم تقریباً 14 سال قبل تمام بالغ ورثاء کی باہمی رضامندی سے مکمل ہوئی ، جس میں جائیداد کی مجموعی و انفرادی قیمتیں متعین کرکے ہر وارث نے اپنا حصہ وصول کرلیا ۔ تقسیم کے وقت بالائی نامکمل حصہ(چھت وفلورز) کو بھی ایک طے شدہ مالیت کے ساتھ شامل کیا گیا اور یہ میرے حصہ میں ہی آیاتھا، اور پھر میں نے ہی اس پر تعمیر کی، اور یہ طے پایا کہ اس حصے پر جو بھی تعمیر کریگا وہی اس سے حاصل ہونے والے منافع کا حقدار ہوگا۔ بعد از تقسیم ایک وارث نے اپنی ذاتی لاگت سے اس حصے پر تعمیر کی جبکہ دیگر ورثاء کو اس کا علم تھا لیکن انہوں نے نہ کوئی اعتراض کیا اور نہ ہی مالی یا عملی شرکت کی، بعد ازاں تما م ورثاء نے اپنے طے شدہ حصے (فلیٹس اور نقد رقم) وصول کیے، باہمی لین دین مکمل ہوا بعض یونٹس فروخت ہوئے اور سب لیز بھی کروادی گئی، مزید یہ کہ اسی حصے سے بعد از تقسیم کچھ اضافی آمدنی بھی حاصل ہونے لگی ، اب تقریباً 14 سال بعد بعض ورثاء اس بالائی حصے، اس پر کی گئی تعمیر اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں شرکت کا دعوی کر رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ شرط کے مطابق کسی ایک وارث کا بالائی حصے پر اپنی لاگت سے تعمیر کرکے اس سے منافع حاصل کرنا شرعاًدرست ہے؟ دیگر ورثاء کا علم کے باوجود خاموش رہنا اور بعد میں اپنےحصے وصول کرلینا کیا شرعاً رضامندی شمار ہوگا اور کیا اس کے بعد ان کا دعویٰ معتبر ہوگا ؟ مذکورہ صورت میں بالا ئی حصے پر کی گئی تعمیر اور اس سے حاصل ہونے وا لی آمدنی کی ملکیت کس کی شمار ہوگی؟
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ تقسیم کا عمل مکمل ہونے اور نامکمل حصہ کا سائل کے ملکیت میں آنے کے بعد دیگر ورثاء اس کی آمدنی میں حصہ داری کا مطالبہ کس بنیاد پر کرر ہے ہیں؟ تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر یہ تقسیم واقعۃ باہمی رضامندی سے مکمل ہوچکی ہو اور سائل کے حصے میں نامکمل حصہ(چھت) وغیرہ آنے کے بعد انہوں نے اپنی ذاتی رقم سے یہ تعمیر مکمل کی ہو تو یہ حصہ سائل کی ذاتی ملکیت کہلائیگی اور اس کی آمدنی بھی سائل کی ملکیت ہوگی، لہذا دیگر ورثاء کا اس میں حصہ داری کا دعویٰ کرنا شرعاً درست نہیں۔
کما فی شرح المجلۃ: کل یتصرف فی ملکہ کیف یشاء(الیٰ قولہ)لان کون الشئی ملکاً لرجل یقتضی ان یکون مطلقاً فی التصرف فیہ کیفما شاء الخ(الفصل الاول فی بیان بعض قواعد فی احکام الاملاک،ج:4،ص:132،مط:مکتبہ حقانیہ)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1