امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے، میں75 سالہ بوڑھی خاتون دل کی مریضہ ،شوگر کی مریضہ ہوں،میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ شوہر مرحوم کی جائیداد ہے اس میں شرعی مسئلے میں آپ کی رہنمائی چاہتی ہوں ،میرے شوہر کا انتقال1997 میں ہوا جبکہ اس وقت میں، میرے بچے چھوٹے تھے اورسوگوران میں پانچ بیٹیاں ،دو بیٹے اور ایک بیوہ عورت (میں) شامل ہیں اور جیسے کہ میں F.R.Cکاپی لگا رہی ہوں۔ شوہر بیمار تھے، کینسرکے مرض میں مبتلا تھے،اور میں اپنے شوہر کی بیماری میں تیماداری کی ، کیونکہ میرے بچے اس وقت چھوٹے تھے ،F.R.Cمنسلک کر رہی ہوں تاکہ آپ کو بچوں کی عمر کا اندازہ ہو سکے،شوہر کے انتقال کے بعد ساری ذمہ داریاں مجھ پر تھیں، بڑی تین بیٹیاں اور چوتھے نمبر پر بیٹا تھا اور ذمہ داریاں سنبھالنے والا نہیں تھا،میں مرحوم کی وراثت تقسیم کرنے میں معذرت چاہتی ہوں کہ بچوں کی کم عمری کی وجہ سے وراثت تقسیم کرنے میں تاخیر ہوئی ،لہذا اب میرے سارے بچے شادی شدہ ہیں اور اب یہ کام (والد کی وراثت) کی تقسیم کرنا چاہتی ہوں ،اس میں مجھے آپ قران و سنت کی روشنی میں شرعی حکم کیا ہے، آپ میری رہنمائی کریں،میں شوہر کے انتقال کے بعد سلائی اور کڑاھائی کر کے جس میں میری تین بیٹیاں میرا ساتھ دیتی تھیں، اسکول اور گھر میں ٹیوشن پڑھا کر گھر کا خرچہ چلاتی تھیں،اس کے بعد میں نے اپنے بیٹے محمد سلیم کو اپنے چھوٹے بھائی لقمان سے کہہ کر کپڑے کی دکان پر نوکری پر لگوایا اور پھر اس کے ساتھ ساتھ میں نے بچوں کو اچھی تعلیم وتربیت دلوائی اور پانچوں بیٹیوں اور دوبیٹوں کی شادیاں کروائی،میرے شوہر کے انتقال کے کچھ سالوں بعد میرا بیٹا محمد سلیم نے کپڑےکی نوکری چھوڑ کر والد کا کام (ہینڈی کرافٹ)جیسا کام شروع کیا اور جو کہ اس نے اپنا کارخانہ لیاقت آباد میں والد کا سارا سامان مشینری، ڈائی پارٹن،اوردیگر اوزار وغیرہ وہ سب کارخانے لے گیا اور کام کیا اور اس سے اب تک کام کر رہا ہے ،آپ یہ رہنمائی کریں ،بتائیں کہ شرعی طور پر مرحوم کی وراثت میں اس سامان کو کس طرح لیا جائے گا ،حالانکہ میرا چھوٹا بیٹا محمد ابراہیم کا والد محمد اجمل مرحوم کے کام سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور وہ (سیلزمین)مارکیٹنگ کا کام کرتا ہے، اور پانچوں بیٹیاں شادی شدہ ہیں،مرحوم کی وراثت میں 120 گز کا مکان پلاٹ نمبر 132 K.M.C لینر میں رجسٹرڈ ہے ،اور مرحوم کے کاروبار کی باری مشینری اور ڈائی پارٹن اور دیگر اوزار شامل ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ اس حوالے سے مفصل شرعی فتوی جاری فرمائیں تاکہ تمام ورثاء کے حقوق شر ع محمدی ﷺکے مطابق ادا کیے جا سکیں اور کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ جزاکم اللہ خیرا ۔
سائلہ کے مرحوم شوہر مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں کارخانے کی جو مشینری اور دیگر اوزارچھوڑاہے وہ بھی مرحوم کا ترکہ ہے جو کہ دیگر ترکہ کی طرح مرحوم کے تمام ورثاء کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا ،تاہم اگر اس مشینری اور اوزار وغیرہ کا حسی طور پر تقسیم ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں یا تو ان اوزار اور مشینری کو فروخت کر کے حاصل شدہ رقم آپس میں تقسیم کریں یا باہمی رضامندی سے ان اوزار و مشینری کی مالیت لگائی جائے پھر اگر ورثاء میں سے کوئی ان اوزار و مشینری کو اپنے پاس رکھنے پر رضامندی ہو تو وہ دیگر ورثاء کو ان کے حصوں کی قیمت ادا کرے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے مرحوم شوہر کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بہتر(72) حصے بنائےجائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو نو(9) حصہ، دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ(14) حصے جبکہ پانچوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کوسات (7) حصے دیےجائیں۔
کمافی الدر المختار: (وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم بطلب كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها للعول (وإن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض.في المجتبى: حانوت لهما يعملان فيه طلب أحدهما القسمة إن أمكن لكل أن يعمل فيه بعد القسمة ما كان يعمل فيه قبلها قسم وإلا لااھ(كتاب القسمة،ج:6،ص:260،ط:سعيد)
وفی ردالمحتار: لان التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.(كتاب الفرائض،ج:6،ص:759،ط:سعید)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0