*مفتی صاحب سے وراثت کے مسئلے کے لیے استفتاء کا مسودہ:*
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*خدمت جناب مفتی صاحب دامت برکاتہم*
دارالافتاء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گذارش ہے کہ میرے والد صاحب الحمدللہ حیات ہیں۔ ان کے نام ایک مکان ہے۔
*ہمارے گھرانے کی تفصیل یہ ہے:*
1. والدہ محترمہ – حیات ہیں
2. بڑی بہن – حیات ہیں، شادی شدہ ہیں
3. میں – بڑا بیٹا
4. چھوٹا بھائی – حیات ہے
5. سب سے چھوٹی بہن – ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ مرحومہ شادی شدہ تھیں اور ان کے [اولاد ہے / نہیں ہے – جو صورت ہو لکھ دیں]
والد صاحب نے بیٹیوں کو شادی کے وقت جہیز اور کچھ تحائف دیے تھے، لیکن یہ تحریری طور پر طے نہیں ہوا تھا کہ یہ وراثت کے بدلے ہے یا ہبہ ہے۔
*میرا سوال یہ ہے:*
1. جب تک والد صاحب حیات ہیں، کیا فوت شدہ بہن کا والد کی جائیداد میں کوئی حق بنتا ہے؟
2. والد صاحب کے انتقال کے بعد، کیا مرحومہ بہن کے بچے/شوہر کو والد کی وراثت میں سے حصہ ملے گا؟
3. شادی کے وقت جو سامان بیٹیوں کو دیا گیا تھا، کیا وہ وراثت میں شمار ہوگا؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم شرعی طریقے سے معاملہ حل کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
*والسلام*
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص اپنے مورث کی زندگی میں انتقال کرجائے تو اس کا اپنے مورث کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں چونکہ سائل کی چھوٹی بہن اپنے والد صاحب کی حیات ہی میں انتقال کرگئی ہے، اس لیے اس کا سائل کے والد صاحب کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہے اور نہ ہی والد صاحب کے انتقال کے بعد مرحومہ کے ورثاء (اولاد ،شوہر ) اس میں حصہ داری کا کوئی دعویٰ کرسکتے ہیں جبکہ شادی کے موقع پر سائل کے والد صاحب نے اپنی بیٹیوں کو جو تحائف اور جہیز کا سامان دیا تھا، وہ سائل کے والد صاحب کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہوگا، یہ ان کے شرعی حصہ میراث کا بدل قرار نہیں پائے گااور نہ ہی ان کے حصہ میراث سے منھا ہوگا بلکہ سائل کے والد کے انتقال کے وقت موجود ورثاء بیٹے اور بیٹیاں اپنے اپنے شرعی حصوں کی حق دار ہونگے ۔
کما فی الشامیۃ: أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث (ج6 ص769 کتاب الفرائض ط: ایچ ایم سعید )
وفیہ ایضاً: المختار للفتوى أن يحكم بكون الجهاز ملكا لا عارية لأن الظاهر الغالب إلا في بلدة جرت العادة بدفع الكل عارية فالقول للأب. وأما إذا جرت في البعض يكون الجهاز تركة يتعلق بها حق الورثة هو الصحيح. اهـ. ولعل وجهه أن البعض الذي يدعيه الأب بعينه عارية لم تشهد به العادة، بخلاف ما لو جرت العادة بإعارة الكل فلا يتعلق به حق ورثتها بل يكون كله للأب (ج3 ص 157مطلب انفق علی معتدۃ الغیر ط: ایچ ایم سعید )
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2