محترم مفتی صاحب ، جناب عالی! میرے والد عبد الرزاق کا انتقال ہو چکا ہے ورثاء میں انہوں نے دو بیٹے شادی شدہ اور پانچ بیٹیاں شادی شدہ چھوڑے ہیں اور ان کی ایک بیٹی ان کی زندگی میں ہی وفات پا گئی تھیں ان کی بیوی ان کے انتقال کے بعد فوت ہوئیں، میرے والد کی سودہ سلف یعنی کریانے کی دکان تھی جو کہ ان کی زندگی میں بہت اچھی چل رہی تھی جس میں میرے والد کا سب سے چھوٹا بیٹا شادی شدہ ان کے ساتھ ہاتھ بٹا رہا تھا۔ لیکن ان کے کاروبار میں اس کا کوئی اپنا سرمایہ نہیں تھا لیکن بیٹے کے سارے اخراجات میرے والد ہی اپنے کاروبار سے پورا کرتے تھے، مزید برآں یہ کہ میرے والد نے اپنی زندگی میں اپنے چھوٹے بیٹے کے نام سے جو ان کے ساتھ دکان میں کام کر رہا تھا ایک فلیٹ بک کروایا تھا جو کہ ان کی زندگی میں مکمل ہو کر ملا جس کی مالیت اس وقت کے مطابق 25 لاکھ تھی لیکن بیٹے نے میرے والد کا گھر چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ کہیں اور شفٹ ہو گیا اور اس طرح بیٹے نے اپنا رویہ بدل لیا میرے والد نے دل برداشتہ ہو کر بیٹے کے نام جو فلیٹ بک کروایا تھا اسے میرے والد نے اپنے نام پر کروا لیا اور اپنی زندگی میں میرے والد نے چلتا ہوا کاروبار اپنے بیٹے کے حوالے کر دیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ اس کاروبار کے نفع اور نقصان کا ذمہ دار اب یہ میرا چھوٹا بیٹا ہے، اس کے بعد میرے والد کا انتقال ہو گیا اور میری والدہ ان کی زندگی میں حیات تھی ان کا بڑا بیٹا ان کے ساتھ رہ رہاتھا اور ماں کے ساتھ اپنی کنواری بہن کی کفالت کرتا رہا، والد اور والدہ کا علاج بھی بڑے بیٹے نے کروایا تھا، اس کے بعد ماں کا بھی انتقال ہو گیا میرے والد نے وراثت میں دو مکان چھوڑے جن میں سے ایک مکان میں میرے والد کی شادی شدہ بیٹی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ گزشتہ کئی سالوں سے رہ رہی ہیں، اور دوسرا مکان جو کہ فلیٹ ہے، جس کو کرائے پر دیا ہوا ہے اور اس فلیٹ کے کرائے میں سے 10 ہزار روپے کنواری بیٹی کو دیے جاتے ہیں اور باقی کا کرایہ 25 ہزار روپے ہر مہینے میرے والد کے چھوٹے بیٹے کو دیے جاتے ہیں کیونکہ وہ والد کا کاروبار سنبھال نہیں پایا اور بے روزگار ہے، میری والدہ نے انتقال کے بعد کچھ رقم اور زیورات چھوڑے ہیں جن کی مالیت تقریبا 20 لاکھ روپے ہے، انہوں نے اپنی زندگی میں یہ نصیحت کی تھی کہ یہ رقم زیورات میری کنواری بیٹی کی امانت ہے اور انہوں نے کہا تھا کہ یہ اس کی شادی وغیرہ کے اخراجات کے لیے جمع کیے تھے اور میرے بعد یہ اس کنواری بیٹی کے ہیں لہذا اس سلسلے میں ہمیں بتائیں کہ آیا اس کی تقسیم ہوگی یا نہیں؟ 1. مفتی صاحب آپ سے میرا یہ سوال ہے کہ میرے والد کے مکانوں کے علاوہ یہ جو زیورات ملے ہیں، کیا اس کی بھی وراثت کے مطابق تقسیم بیٹے اور بیٹیوں میں تقسیم کی جائے گی؟2 میری ایک بہن کی وفات میرے والد کی زندگی میں ہو گئی تھی اور اس کے تین بچے ہیں جن میں سے دو بیٹیوں کی شادی ہو گئی ہے اور ایک بیٹا ابھی کنوارا ہے۔ اس کے علاوہ میرے والد کے چھوٹے بیٹے نے تقاضہ کیا ہے کہ فلیٹ شروع میں میرے نام پر تھا اور میں نے اس میں آدھی رقم ملائی تھی یعنی اس وقت کی قیمت 25 لاکھ کا آدھا۔ ساڑھے 12 لاکھ بنتا ہے۔ اب وہ یہ کہتا ہے کہ موجود مارکیٹ کی ویلیو کے مطابق فلیٹ کی قیمت کا آدھا حصہ مجھے دے دیا جائے اور کہتا ہے کہ وراثت کا حصہ میرا الگ ہوگا۔ میرے والد کے اس چھوٹے بیٹے کے پاس فلیٹ میں رقم ملانے کا نہ کوئی ثبوت ہے اور نہ بہن بھائیوں میں سے کسی کو علم ہے، مفتی صاحب آپ فرمائیے اس سلسلے میں میں کیا کرنا چاہیے؟
3. والد کا چھوٹا بیٹا کم عمری سے ہی والد کے ساتھ ہی کام کرتا تھا اور اس کا خرچ اسی دکان سے پورا ہوتا تھا اور مزید مقروض بھی ہو گیا اب وہ بیروزگار ہے اور جو قرض ہو گیا ہے اس کو کون ادا کرے گا؟ والد کی بیماری اور پھر انتقال کے بعد چھوٹا بیٹا کام صحیح طرح نہیں سنبھال سکا اس طرح کاروبار ختم۔
مفتی صاحب آپ سے درخواست ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر میرے والد کے ورثاء میں سے دو بیٹے اور ان کی زندگی میں چار بیٹیاں شادی شدہ ہیں جبکہ ایک بیٹی کنواری ہے اور ایک بیٹی ان کی زندگی وفات پا چکی ہے میرے والد کی وراثت کی تقسیم جو کہ دو مکان جن کی مالیت تقریبا ڈیڑھ کروڑ ہے اور زیورات کی شکل میں 20 لاکھ روپے ہیں ان کی تقسیم کس طرح کی جائے تاکہ سب کے ساتھ انصاف ہو۔ زایده واحد، بڑی بیٹی، مرحوم عبد الرزاق
واضح ہو کہ اولاد میں سے جس بیٹے / بیٹی کا انتقال والد کی زندگی میں ہی ہوچکا ہو، تو والد کی وفات کے وقت اس کے دیگر ورثاء کی موجود گی میں وہ بیٹا/ بیٹی یا اس کے واسطے سے اس کے ورثاء مرحوم والد کے ترکہ میں حصہ دار نہیں ہوتے، لہذا صورت مسئولہ میں جس بیٹی کا انتقال والد مرحو م کی زندگی میں ہوچکا تھا وہ یا اس کے ورثاء والد کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہونگے ، البتہ دیگر ورثاء اگر اپنے حصص میں سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، اور باعث اجر و ثواب بھی ہے مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ، جہاں تک سائلہ کے چھوٹے بھائی کا فلیٹ میں آدھی رقم کی ادائیگی کی بنیاد پر آدھے حصے کے دعوی کا تعلق ہے، تو شرعاً کسی بھی دعوی کے ثبوت کے لیے باقاعدہ گواہان اور ثبوت کا ہونا یا مدعی علیھم کا اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے ، لہذا اگر سائلہ کا بھائی اپنے اس دعوی پر کوئی گواہ یا قانونی دستاویزات بطور ثبوت پیش کرتا ہے یا دیگر ورثاء اس کی اس بات پر اطمینان کا اظہار کرکے اس دعوی کو تسلیم کرلیتے ہیں تو ان کا دعوی معتبر ہوگا ورنہ دیگر ورثاء سے عدم علم پر قسم لی جائےگی اس طور پر کہ ورثاء یوں قسم اٹھائیں گے کہ "اللہ کی قسم ہمیں اس بھائی کی جانب سے اس پلاٹ میں آدھی رقم کی ادائیگی کا علم نہیں" جس کے بعد اس بھائی کا دعوی مسترد ہوگا ، اور وہ والد ین مرحومین کے مکمل ترکہ میں اپنے حصہ شرعیہ کے بقدر حقدار ہوگا ، جبکہ سائلہ کی والدہ کے پاس موجود زیور اگر انہوں نے اپنی صحت والی زندگی میں اپنی چھوٹی بیٹی کو باقاعدہ گفٹ کرکے مالکانہ قبضہ کے ساتھ حوالہ نہ کیا ہو ،بلکہ فقط انہیں دینے کی خواہش ظاہر کی ہو تو اس کی وجہ سے چھوٹی بیٹی اس زیور کی مالک نہیں بنی بلکہ یہ والدہ مرحومہ کا ترکہ کہلائے گا جو اس بیٹی سمیت تمام ورثاء میں اصول میراث کے مطابق تقسیم ہوگا جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے،
اس کے بعد واضح ہو کہ والدین مرحومین کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقت ِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومین کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل نو (9) حصے بنائےجائیں، جن میں سے مرحومین کے پانچ بیٹیوں میں سے ہر ایک کوایک (1) حصہ ، جبکہ بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو (2) حصے دیےجائیں گے، جیسا کہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہو رہا ہے ،مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دئیے گئے ہیں !
مسئلہ 9 والدین مرحومین
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
2 2 1 1 1 1 1
22.222% 22.222% 11.111% 11.111% 11.111% 11.111% 11.111%
کما فی التاترخانیۃ: وأما شرائط صحتها فأنواع ،أما في الموهوب فهو أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض و أن يكون الموهوب مقسوما اذا كان ما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب و لا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب (كتاب الهبة ، ج: ١٤، ص؛ ٤١٢،ناشر: حقانية)
و في رد المحتار: وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة، ولو قال: أغرس باسم ابني، فالأمر متردد، وهو إلى الصحة أقرب اهـ. وفي المتن من الخانية بعد هذا قال: جعلته لابني فلان، يكون هبة؛ لأن الجعل عبارة عن التمليك، وإن قال: أغرس باسم ابني، لا يكون هبة،اه (كتاب الهبة، ج: ٥، ص: ٦٨٩، مط: سعيد)
وفي بدائع الصنائع:وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله عليه الصلاة والسلام «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل عليه الصلاة والسلام البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين اھ( فصل في حجة المدعي والمدعى عليه،ج:٦،ص:٢٢٥،ط:سعيد)
وفي دررالحكام في شرح مجلة الاحكام:وإذا ادعى المدعي دعواه في حضور وارث واحد وأنكر الوارث المدعى عليه الدين وعجز المدعي عن الإثبات فيحلف كل وارث على حدة على كونهم لا يعلمون بأن الميت مدين للمدعي بذلك المبلغ أو بأقل منه ولا يسقط اليمين عن باقي الورثة بحلف بعض الورثة؛ لأن الناس يتفاوتون في اليمين ولأن الوارث يستحلف على العلم وربما لا يعلم الأول بدين الميت ويعلم الثاني (الخانية)( (المادة ١٦٤٢) يصح أن يكون أحد الورثة خصما في الدعوى التي تقام على الميت أو له،ج:٤،ص:٢٥٣،ط:دارالجيل)
وفي البدائع: (ومنها) أن لا يكون وارث الموصي وقت موت الموصي، فإن كان لا تصح الوصية لما روي عن أبي قلابة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال «إن الله تبارك وتعالى أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث» وفي هذا حكاية،اھ(کتاب الوصایا، الشرط الذي يرجع الى الموصى له، ج: ٧، ص: ٣٣٧، مط: سعيد)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2