احکام وراثت

زمین نام نہ ہونے کی وجہ سے حصہ کا دعوی کرنا

فتوی نمبر :
95320
| تاریخ :
2026-05-14
معاملات / ترکات / احکام وراثت

زمین نام نہ ہونے کی وجہ سے حصہ کا دعوی کرنا

محترم جناب حضرت مفتی صاحب دامت بر کا ہم العالیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری دادی مرحومہ کے ورثاء میں صرف تین بیٹے تھے۔ دادی کی تقریب 29 ایکڑ زرعی زمین تینوں بیٹوں میں تقسیم ہوئی ، اور ہر ایک کے حصہ میں تقریباً19،9 ایکڑ زمین آئی۔ تقریباً40 سال قبل تینوں بھائیوں نے اپنے اپنے حصے پر قبضہ بھی لے لیا تھا۔ بعد ازاں دو بھائیوں نے اپنے اپنے حصے کی پوری زمین فروخت کر کے انتقالات بھی کرا دیے تھے، جبکہ ہمارے والد صاحب نے اپنی زمین اپنے قبضہ میں رکھی اور خود کاشت کرتے رہے 40 سالوں سے اس دوران کسی نے بھی اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔ والد صاحب نے چند سال قبل اپنی زمین کا کچھ حصہ فروخت کیا تھا اور اس زمین کا انتقال بھی کرادیا تھا، پھر والد صاحب کے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے باقی زمین بھی فروخت کر دی تھی ۔ جب اس فروخت شدہ زمین کا انتقال کرانے کے لیے دفتر گئے تو معلوم ہوا کہ والد صاحب کے نام پورے 19ایکڑمنتقل ہونے کے بجائے صرف 18 ایکڑ زمین منتقل ہوئی تھی، جبکہ ایک ایکڑ زمین بدستور دادی مرحومہ کے نام پر باقی تھی ۔ اس بات کا علم تقریباً 40 سال بعد اس وقت ہوا جب مذکورہ زمین کی فروخت کے بعد انتقال کے لیے رجوع کیا گیا تھا۔ اس صورت حال پر ہمارے چچازادوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ ایک ایکڑ زمین کا غذات میں اب بھی دادی مرحومہ کے نام موجود ہے، اس لیے اس میں تینوں بھائیوں یا ان کے ورثاء کا حصہ ہوگا۔ جبکہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ یہ ایک ایکڑدراصل ہمارے والد صاحب ہی کے حصہ کی باقی ماندہ زمین ہے، کیونکہ تقسیم کے وقت ہر بھائی نے اپنا اپنا پورا حصہ 19 ایکڑ ہربھائی نے وصول کر کے قبضہ لے لیا تھا، اور والد صاحب اپنے حصہ 19 ایکڑمسلسل اس زمین پر قابض و کاشت بھی کرتے رہے اس بات کا پورا گاؤں گواہ بھی ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ شرعاً اس ایک ایکڑ زمین کا حق دار کون ہے؟ کیا صرف کا غذات میں دادی مرحومہ کے نام باقی رہ جانے کی وجہ دوبارہ تمام ورثا اس کے حق دار بن جائیں گے جبکہ اصل تقسیم پہلے ہوچک تھی اور ہر ایک نے اپنا حصہ وصول کر لیا تھا، اس لیے یہ زمین ہمارے والد صاحب ہی کے حصہ میں شمار ہوگی ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں ۔
والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ زمیں وغیرہ کسی چیز کا مالک بننے کے لئے سرکاری کاغذات وغیرہ میں رجسٹریشن ضروری نہیں،بلکہ شرعی اعتبار سے یہ صرف ایک تائیدی ثبوت ہوتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل کے والد کے حصہ میں اپنی مرحومہ والدہ کے ترکہ میں سے نو ایکڑ زمین آچکی ہو اور اتنے طویل عرصہ تک مکمل نو ایکڑ زمین اراضی سائل کے والد کے استعمال اور تصرف میں رہی ہو تو اب چالیس سال گزرنے کے بعد ایک ایکڑ زمین محض سائل کے والد کے نام نہ ہونے کی وجہ سے اس کی حق ملکیت اس ایک ایکڑ زمین سے ختم نہیں ہوئی بلکہ پہلے کی طرح سائل کا والد ہی بدستور اس کا مالک رہا ہے اور اس کے انتقال کے بعد سائل کے والد مرحوم کے ورثاء اس مکمل زمیں کے حق دار ہیں ،لہذا سائل کے چچازاد بھائیوں کا سوال میں مذکور دعویٰ بے جا اور غیر شرعی ہونے کی وجہ سے غیر معتبر ہے، ان پر لازم ہے اکہ اپنے اس ناجائز دعویٰ سے فی الفور براءت اختیار کرکے مواخذہ اخروی سے سبکدوشی حاصل کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی العدد السادس من مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامیہ: ‌وقبض ‌كل ‌شيء بحسبه. . . وقال أبو حنيفة: التخلية في ذلك قبض، وقد روى أبو الخطاب عن أحمد رواية أخرى، أن القبض في كل شيء التخلية مع التمييز لأنه خلى بينه وبين المبيع من غير حائل فكان قبضًا له كالعقار. . . إلى أن قال: ولأن القبض مطلق في الشرع فيجب الرجوع فيه إلى العرف كالإحراز والتفرق. (ج:6،ص:532)
وفی الدر المختار: (و) تصح (بقبول) أي في حق الموهوب له أما في حق الواهب فتصح بالإيجاب وحده؛ لأنه متبرع حتى لو حلف أن يهب عبده لفلان فوهب ولم يقبل بر وبعكسه حنث بخلاف البيع(و) تصح (بقبض بلا إذن في المجلس) فإنه هنا كالقبول فاختص بالمجلس (وبعده به) أي بعد المجلس بالإذن، وفي المحيط لو كان أمره بالقبض حين وهبه لا يتقيد بالمجلس ويجوز القبض بعده (والتمكن من القبض كالقبض فلو وهب لرجل ثيابا في صندوق مقفل ودفع إليه الصندوق لم يكن قبضا) لعدم تمكنه من القبض (وإن مفتوحا كان قبضا لتمكنه منه) فإنه كالتخلية في البيع اختيار وفي الدرر والمختار صحته بالتخلية في صحيح الهبة لا فاسدها وفي النتف ثلاثة عشر عقدا لا تصح بلا قبض (ولو نهاه) عن القبض (لم يصح) قبضه (مطلقا) ولو في المجلس؛ لأن الصريح أقوى من الدلالة(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها۔(ج:5،ص:590،مط:ایچ ایم سعید)
وفی البحر الرائق: قوله وقبض بلا إذن في المجلس وبعده به) يعني وبعد المجلس لا بد من الإذن صريحا فأفاد أنه لا بد من القبض فيها لثبوت الملك لا للصحة والتمكن من القبض كالقبض(ج:7،ص:285)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95320کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات