محترم جناب حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
بعد از سلام گزارش یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہمارے قریبی عزیز واقارب کی موجودگی میں اپنے اکلوتے بیٹے محمد مقبول کو الگ کرتے ہوئے اپنے مکان کا نصف حصہ اپنے اکلوتے بیٹے محمد مقبول کو دے دیا تھا، اور اس سے کہا تھا کہ وہ درمیان میں دیوار کھڑی کرلے۔ تا کہ آئے روز لڑائی جھگڑے سے نجات مل سکے، بیٹے نے مالی تنگی کی وجہ سے دیوار بنانے سے معذرت کی اور والد صاحب سے ہی اس کا مطالبہ کیا، جبکہ والد صاحب بضد تھے کہ دیوار کا خرچہ بیٹا کرے۔ اور جو مشتر کہ کاروبار تھا وہ بھی الگ کر لیا تھا، والد صاحب کی طرف سے دیا گیا نصف مکان دو کمروں پر مشتمل تھا، جس پر محمد مقبول نے قبضہ لے کر، اس کی تعمیر و مرمت کر کے اسے قابل رہائش بنایا اور اس میں رہائش اختیار کر لی، مزید یہ کہ والد صاحب کے کہنے پر اپنے نام پر دو الگ بجلی کے میٹر بھی لگوائے ، جن کے بل وہ خود ادا کرتا رہا۔ آئے روز محمد مقبول کا اپنے والد اور بہنوں سے گھر یلو نا چاقیوں کے باعث جھگڑارہنا پرانا معمول تھا، جس پر والد صاحب غصہ میں دیوار بنانے کا تقاضا بھی کرتے مگر یہ دیوار تعمیر نا ہو سکی ۔ تقریباً 15سال تک یہی صورتحال برقرار رہی کہ آدھا مکان محمد مقبول کے قبضہ و استعمال میں رہا ،آدھا مکان والد صاحب کے زیر استعمال رہا ،مکان کے تمام کاغذات والد صاحب ہی کے نام پر رہے، والد صاحب نے اس نصف حصے کی باقاعد ہ رجسٹری محمد مقبول کے نام نہیں کروائی اور نہ ہی محمد مقبول نے والد سے اپنے نام رجسٹری کروائی ، اور والد صاحب نے دیا ہو امکان کا بھی کبھی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا ، تمام اہلِ خانہ ( والدہ ،6 بہنیں، 1 بھائی ، رشتہ دار ) اس بات سے آگاہ تھے کہ یہ نصف مکان محمد مقبول کو دیا جا چکا ہے ، اب والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے، اور دیگر تمام جائیداد باہمی رضامندی سے تقسیم ہو چکی ہے۔ صرف یہی مکان باقی ہے۔ اور اس آدھے مکان پر جو والد صاحب کے اپنے اکلوتے بیٹے محمد مقبول کو دینے پر والدہ سمیت تمام 6 بہنیں متفق ہیں ، اب اختلاف یہ ہے کہ محمد مقبول کا موقف ہے کہ نصف مکان اسے والد نے زندگی میں 16 سال قبل دے دیا تھا اور وہ اس کے قبضہ میں بھی ہے، لہذا باقی نصف مکان ہی میراث میں تقسیم ہوگا ، جبکہ دو بہنیں کہتی ہیں کہ چونکہ مکان کی رجسٹری نہیں ہوئی ، اس لیے پورا مکان ہی والد کی ملکیت شمار ہوگا اور مکمل مکان کی میراث تقسیم ہوگی ، سوال یہ ہے کہ کیا شرعی اعتبار سے وہ نصف مکان جو والد صاحب نے اپنی زندگی میں بیٹے کو دے دیا تھااورجس پر بیٹےکا قبضہ وتصرف بھی قائم رہا ،مگراس کی رجسٹر ی نہیں ہوئی بیٹے کی ملکیت شمارہوگا؟ یا بدستور والد کی ملکیت شمار ہوکر مکمل مکان میراث میں شامل ہوگا؟ براہ کرم قرآن وحدیث اور فقہ اسلامی کی روشنی میں مفصل رہنمائی فرمائیں۔
(نوٹ ) یہ سوال والدہ صاحبہ اور تمام بہنوں کا متفقہ طور پر مرتب کیا گیا اس میں ہمارے قریبی عزیز بھی شامل تھے سوائے ایک بہن کے، تمام کے شناختی کارڈ کی کاپیاں بھی جمع کی گئیں۔
واضح ہو کہ ہبہ کی درستگی اور تام ہونے کے لئے واہب کا اس چیز کو قانونی دستاویزات میں موہوب لہ کے نام رجسٹر ڈ کرنا ضروری نہیں بلکہ واہب کا اس چیز سے اپنا قبضہ ختم کرکے موہوب لہ کے حوالہ کرنا کافی ہےرجسٹریشن کی حیثیت صرف ایک تائیدی ثبوت کی ہوتی ہے لہذا سائل کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کے والد مرحوم نےمذکور مکان کا نصف حصہ الگ اور متعین کرکےعزیز واقارب کی موجودگی میں سائل کو مالکانہ تصرف کے ساتھ(یعنی اس طور پر کہ سائل چاہتاتو والد مرحوم کی موجودگی میں اپنے حصہ کی زمیں بیچ سکتا تھا) حوالہ کردیا تھا جسکا علم ورثاء کو بھی ہے(جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو اس سے ہبہ مکمل ہوکر سائل مذکور مکان کا مالک بن گیا تھا ، اس لئے سائل کی بہنوں کا یہ کہنا کہ مکان باقاعدہ سائل کے نام منتقل نہیں کیا گیا اس لئے یہ مکان والد مرحوم کا ترکہ کہلائیگا، قطعاً غلط اور احکام شرعیہ سے ناواقفیت پر مبنی ہے اس لئے انہیں اپنے اس ناجائز مطالبہ سے دستبردار ہوکر سائل کو اس کا شرعی حق حوالہ کرنا شرعاً لازم اور ضروری ہے۔
کما فی الھدایۃ: قال وإذا كانت العين في يد الموهوب له ملكها بالهبة وإن لم يجدد فيها قبضا لأن العين في قبضه والقبض هو الشرط الخ(کتاب الھبہ،ج:3،ص:405،مط:مکتبۃ البشریٰ)
وفی الدر المختار: (و) تصح (بقبول) أي في حق الموهوب له أما في حق الواهب فتصح بالإيجاب وحده؛ لأنه متبرع حتى لو حلف أن يهب عبده لفلان فوهب ولم يقبل بر وبعكسه حنث بخلاف البيع الخ ( کتاب الھبۃ،ج:5،ص:590،مط:ایچ ایم سعید)
وفی البحر الرائق: قوله وقبض بلا إذن في المجلس وبعده به) يعني وبعد المجلس لا بد من الإذن صريحا فأفاد أنه لا بد من القبض فيها لثبوت الملك لا للصحة والتمكن من القبض كالقبض( کتاب الھبۃ،ج:7،ص:285،مط:مکتبہ ماجدیہ)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2