کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ شرع درجِ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ میں ایک بیوہ عورت ہوں، کچھ عرصہ پہلے میرے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا، میرے شوہر کے ورثاء میں جو جائیداد ہے اُس کی کل مالیت پانچ کروڑ پچاس لاکھ روپے ہیں، جو میں اپنے بچوں میں شریعت کے مطابق تقسیم کرنا چاہتی ہوں، میرے5 لڑکوں اور 3 لڑکیوں اور ایک میں خود بیوہ عورت کا ، شریعت میں جتنا حصہ بنتا ہے، اُس کی آسان الفاظ میں وضاحت فرمائیں، جس کا جتنا حصہ بنتا ہے، اُس کی ہندسوں میں لکھ کر وضاحت فرما دیں، آپ کی عین نوازش ہوگی، اور آپ کے لئے میں دعا گو ہوں گی، شکریہ۔
صورتِ مسؤلہ میں مرحوم کے ترکہ میں سے حقوقِ متقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الادا قرضوں ، بیوہ کے حقِ مہر کی ادائیگی اور ایک تہائی (1/3) کی حد تک جائز وصیت پرعمل)کے بعداگر یہی رقم یعنی پانچ کروڑ پچاس لاکھ روپے بچتی ہو،اور مرحوم کے ورثاء میں بھی یہی ہوں،ان کے علاوہ اور کوئی وارث نہ ہوتو مذکوررقم میں سے بیوہ کواڑسٹھ لاکھ پچھتر ہزار (68,75,000)روپے،ہر بیٹے کو چوہتر لاکھ تین ہزار آٹھ سو چھیالیس (74,03,846)روپے،جبکہ ہر بیٹی کوسینتیس لاکھ ایک ہزار نو سو تیئیس (37,01,923)روپے دیے جائیں۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0