احکام حج

حج افراد میں طواف قدوم کے بعد بال کاٹنے کا حکم

فتوی نمبر :
95603
| تاریخ :
2026-05-23
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حج افراد میں طواف قدوم کے بعد بال کاٹنے کا حکم

حج افراد میں طواف قدوم کے بعد بھولے سے بال کاٹ لے تو کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ حج ِافراد کرنے والے کا احرام دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی مکمل کرنے تک باقی رہتا ہے،چنانچہ اگر مفرد نے اپنے مقررہ وقت سے قبل ہی طواف قدوم کے بعد بھولے سے جسم کے بال کاٹ لیے تو اس پر جزا لازم ہے، چونکہ سائل نے بالوں سے متعلق تفصیل نہیں لکھی کہ جسم کے کونسے حصے کے بال اور کتنی مقدار میں کاٹے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، لہذا سائل اگر اس متعلق پوری وضاحت کرکے سوال دوبارہ ارسال کردے تو حکم شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في غنية الناسك في بغية المناسك: فصل في الذبح وأحكامه: فاذا فرغ من الرمي يوم النحر انصرف الى رحله ويشتغل بشيئ أخر فذبح ان شاء لأنه مفرد والذبح له أفضل وانما يجب على القارن والمتمتع (276 مط: المصباح)
وفيه أيضا: وفي الفتح: ولو غسل رأسه بالخطمي بعد الرمي قبل الحلق يلزمه دم على قول أبي حنيفة على الأصح لأن احرامه باق لا يزول الا بالحلق. (279 مط: المصباح)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالوہاب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95603کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات