حج افراد میں طواف قدوم کے بعد بھولے سے بال کاٹ لے تو کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ حج ِافراد کرنے والے کا احرام دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی مکمل کرنے تک باقی رہتا ہے،چنانچہ اگر مفرد نے اپنے مقررہ وقت سے قبل ہی طواف قدوم کے بعد بھولے سے جسم کے بال کاٹ لیے تو اس پر جزا لازم ہے، چونکہ سائل نے بالوں سے متعلق تفصیل نہیں لکھی کہ جسم کے کونسے حصے کے بال اور کتنی مقدار میں کاٹے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، لہذا سائل اگر اس متعلق پوری وضاحت کرکے سوال دوبارہ ارسال کردے تو حکم شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔
كما في غنية الناسك في بغية المناسك: فصل في الذبح وأحكامه: فاذا فرغ من الرمي يوم النحر انصرف الى رحله ويشتغل بشيئ أخر فذبح ان شاء لأنه مفرد والذبح له أفضل وانما يجب على القارن والمتمتع (276 مط: المصباح)
وفيه أيضا: وفي الفتح: ولو غسل رأسه بالخطمي بعد الرمي قبل الحلق يلزمه دم على قول أبي حنيفة على الأصح لأن احرامه باق لا يزول الا بالحلق. (279 مط: المصباح)