کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد نے جو مکان لیا تھا اس وقت اپنے بڑے بیٹے کے نام صرف اس لئے کردیا تھا کہ اس وقت ان کا شناختی کارڈ بناہوا تھا، جب انہوں نے مرنے سے قبل حالت بیماری میں بیٹے سے کہا کہ ماں کے نام ٹرانسفر کروالوتو بیٹے نے اس وقت کہا کہ اس پر اتنا زیادہ خرچہ آئے گا اور ابھی آپ کے علاج کے لئے پیسہ درکار ہے۔ پھر وہ اسی حالت میں انتقال کرگئے انتقال کے وقت ایک بیٹی اور ایک بیٹا غیر شادی شدہ تھے۔ (کل تین بیٹے ، اور 4 بیٹیاں ہیں۔ جس میں سے ایک بیٹا باپ کی زندگی میں ہی انتقال کرگیا تھا اور اس کی بیوہ کو والد نے کافی عرصہ تک خرچ بھی دیا، اس عورت سے بھائی کی 2 بیٹیاں بھی ہیں، والد صاحب کی زندگی میں ہی بھائی کی بیوہ نے دوسرا نکاح کرلیا تھا) جبکہ والدہ کی پرانے شوہر سے بھی اولادیں ہیں جن میں سے ایک بیٹے کو شادی کے وقت اپنے ساتھ رکھ لیا تھا اور اس کی ولدیت میں اپنا نام بھی لکھوایا ہے تمام شناختی سرکاری ڈاکیومنٹس میں، جبکہ سابقہ شوہر سے دیگر اولادیں بھی ہیں، اور سابقہ شوہر نے دوسری شادی بھی کی اور وہ ابھی حیات ہے ۔ (اب تمام اولادیں شادی شدہ ہیں) اب پوچھنا یہ ہے کہ اب بھائی سے جب بہنیں تقاضا کر رہی ہیں گذشتہ پانچ سال سے تو وہ ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔جب زیادہ پریشر ڈالا گیا تو کہا کہ ڈیڈی نے کچھ سوچ کر ہی میرے نام کیا تھا، میری مرضی میں کب بیچوں اور کس قیمت پر بیچوں۔ وہ قیمت مارکیٹ ویلیو سے زیادہ بتا رہا کہ اگر اس قیمت کی پارٹی تم لوگ لے آؤ تو میں بیچ دوں گا ورنہ جب تک یہ قیمت نہیں ملے گی میں نہیں بیچوں گا۔ جبکہ اس مکان کی حالت دن بہ دن خستہ ہوتی جارہی ہے دوسال پہلے تک رہنے کے لائق تھا مگر چونکہ اب اس میں کوئی نہیں رہتا تو اس کی وائرنگ، گرلز وغیرہ چرسی چراکرلے گئے اور اس کی دیکھ بھال کے لئے کوئی نہیں۔ جبکہ بہنیں کہتی ہیں کہ مزید اس طرح رکھنا مکان کی ویلیو کو مزید ڈاؤن کر رہا ہے۔ بہنوں کو کسی قسم کی سپورٹ بھی نہیں کرتے بھائی نہ والدہ، جب بیچنے کی بات آتی ہے تو بڑے بھائی کی رائے یہی ہوتی ہے جبکہ چھوٹا بھائی کہتا ہے جب بھی بکے مجھے میرے حصے سے مطلب ہے۔ جبکہ بہنیں اس وقت اتنی پریشان ہیں کہ ایک کے شوہر کے مالی حالات انتہائی خستہ ہوچکے ہیں فاقوں کی نوبت آچکی ہے، دوسری کا شوہر سعودی عرب میں پھنس گیا ہے اور یہاں ان لوگوں کے باہر کے لوگوں کے سامنے اپنے اخراجات کے لئے ہاتھ پھیلانا پڑتے ہیں۔ اور چھوٹی موٹی نوکریاں کرنی پڑتی ہیں۔ 1 ۔اگر وہ مکان بک جاتا ہے تو اس میں کتنے لوگوں کا حصہ ہوگا؟ 2۔بھائی کو اگر شریعت کی بات کرتے ہیں تو کہتا ہے کہ شریعت کا چورن مجھے نہ بیچو میں خود تبلیغ میں ہوں اور سارا دن یہی منجن بیچتا ہوں۔ کیا یہ درست ہے؟ ایسا مطالبہ بہنوں کا ناجائز ہے؟3۔ اب بھائی کہہ رہا ہے کہ اگر زیادہ تم لوگوں نے جلد بازی کی تو ٹھیک ہے جو بھی تھوڑا بہت تم لوگوں کو ملے گا دے دوں گا لیکن بعد میں کسی سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا۔ اس تمام صورتحال میں راہنمائی فرمائیں۔ کیونکہ بہنوں کو سپورٹ کرنے والا کوئی نہیں نہ ہی ان کی پریشانیوں میں اگر انتہائی بیمار بھی ہوجائے ان کے گھر میں تو کوئی بھائی زبانی طور پر بھی ان کا ساتھ نہیں دیتا۔ جلد از جلد اس مسئلے کا جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں۔ جزاکم اللہ تعالیٰ خیرا
واضح ہو کہ وراثت کی تقسیم جتنی جلدی ممکن ہو، اتنی جلدی اس فریضے سے سبکدوشی کی فکر کرنی چاہیے، تاکہ بعد میں کسی قسم کی بدمزگی، آپس کے اختلافات، لڑائی جھگڑے اور کسی کی حق تلفی کی نوبت نہ آئے۔ لہٰذا سائل کے والدِ مرحوم کا ترکہ فی الوقت تقسیم کرنے میں اگر کوئی شرعی مانع اور رکاوٹ نہ ہو، تو ورثا میں سے کسی وارث کا بغیر کسی شرعی عذر کے ترکے کی تقسیم میں ٹال مٹول کرنا یا دیگر ورثا کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا درست نہیں۔ بلکہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو ورثا کے مطالبے پر جلد از جلد ترکہ تقسیم کر کے ہر وارث کو اس کا حصہ حوالہ کر دینا لازم اور ضروری ہوگا۔ چنانچہ سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق جب بہنیں اپنے حصوں کا تقاضا کر رہی ہیں تو بڑے بھائی پر لازم ہے کہ مکان تقسیم کر کے یا موجودہ مارکیٹ قیمت پر اس کو فروخت کر کے ہر بہن کو اس کا شرعی حصہ دے کر مواخذہ اخروی و دنیاوی سے سبکدوشی حاصل کرے۔ سائلہ کے بڑے بھائی کا ورثا کی طرف سے اپنے شرعی حصے کے مطالبے پر ناراضگی کا اظہار کرنا اور آئندہ کے لیے بہنوں سے قطع تعلق کی دھمکیاں دے کر انہیں اپنے حق کے مطالبے سے باز رکھنا یا ان کے مطالبے کو شریعت کا چورن اور منجن بیچنے سے تعبیر کرنا قطعاً درست طرزِ عمل نہیں، جس سے بڑے بھائی کو احتراز لازم ہے۔ تاہم جو بیٹا والد کی زندگی میں انتقال کر جائے تو دیگر قریبی ورثا کی موجودگی میں اس بیٹے کی اولاد شرعاً دادا مرحوم کے ترکے میں حصہ دار نہیں ہوتی لہٰذا سائلہ کے جس بھائی کا انتقال والد کی حیات میں ہو چکا تھا اس کی بیوہ اور بیٹیاں شرعاً دادا مرحوم کے ترکے میں حصہ دار نہ ہوں گی۔ اسی طرح سائلہ کی ماں شریک بہن بھائی (بشمول اس بھائی کے جو والد نے اپنے ساتھ رکھا تھا اور اس کے کاغذات میں ولدیت کے خانے میں حقیقی والد کے بجائے سائلہ کے والد کا نام لکھا گیا ہے) شرعاً سائلہ کے والد مرحوم کے ترکے میں حصہ دار نہ ہوں گے۔ البتہ اگر والد مرحوم کے ورثا عاقل و بالغ ہوں اور اپنی مرضی و خوشی سے اپنی بیوہ بھابھی، ماں شریک بہن بھائیوں اور اپنی بھتیجیوں کو کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، مگر ایسا کرنا ان کے ذمے لازم اور ضروری نہیں۔
کما مشکوٰۃ المصابیح:عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين اھ".(باب الغصب والعارية، ج:1، ص:254،ط:قديمي)۔
وفی الدر المختار : (و قسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة و بطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) و في الخانية : يقسم بطلب كل و عليه الفتوى ، لكن المتون على الأول فعليها العول (و إن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض. (ج6،ص 260،ط:سعید)
و في السراجي في الميراث:وأما لأولاد الأم فأحوال ثلاث: السدس للواحد والثلث للاثنين فصاعدا،ذكورهم وإناثهم في القسمة والاستحقاق سواء، ويسقطون بالولد وولد الابن وإن سفل، وبالأب والجد بالاتفاق.(باب معرفة الفروض ومستحقيها،ص:۱۷،ط:مكتبة البشري)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0