السلام علیکم۔ عرض یہ ہے کہ میرے شوہر کا کپڑے کی ایک چھوٹی سی دکان ہے۔ یہ دکان بھی ملتانی تاجر ہول سیل والوں سے ادھار پہ مال لے کر بنائی تھی۔ ہمارے مالی حالات شروع سے بس گزارے لائق تھے۔ گھر کے کھانے پینے کا ہو جاتا ہے بس اب بھی اتنا ہوتا ہے۔ ہر ہفتے ملتانی تاجر آتے ہیں اور مال کی قسط لے جاتے ہیں۔ جو تھوڑی بہت سیل ہوتی ہے وہ اس طرح چلی جاتی ہے یا بس گھر کا کچن چلتا ہے۔ چونکہ پیسے نہیں بچتے تو پھر سے مال ادھار لانا پڑتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اب عرض یہ ہے کہ سیل اتنی نہیں ہے کہ ملتانی تاجر کو بھی قسط دی جائے اور گھر بھی چلایا جائے۔ گھر میں اکثر 2 ہزار بھی نہیں ہوتے۔ نا ہی میرا ایک رتی بھی سونا ہے یا کوئی رقم ہے۔ ہم بینک سے آسان کاروبار سکیم سے لوں لینا چاہتے ہیں۔ جسکے بارے میں پنجاب بینک دعویدار ہے کہ 15 لاکھ پہ کوئی سود نہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ لون پروسیجر کے جو پیسے ہیں یہ سود لے رہے ہیں۔ اب عرض یہ ہے کہ حالات بہت ہی خراب ہیں۔ آپ بتائیں کہ کیا یہ لون یا قرضہ لے لیا جائے تو اسلام میرے حالات پہ اسکی اجازت دیتا ہے؟؟؟ آپکی بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ رہنمائی فرما دیں۔
صورتِ مسئولہ میں بینک کی مذکور"آسان کاروبار اسکیم" کا شرعی حکم اس کے اصل معاہدہ اور طریقۂ کار پر موقوف ہے، محض نام یا اشتہار کی بنیادپراس معاملہ کے جوازیاعدم جوازکاحکم نہیں لگایاجاسکتا۔چنانچہ اگر اس اسکیم میں قرض پر کسی بھی قسم کا مشروط اضافہ یا زائد ادائیگی لازم ہوتی ہو، تو یہ شرعاً سود (ربا) کے حکم میں داخل ہو کر ناجائز ہوگا۔
لہٰذا سائلہ کوچاہیےکہ محض مجبوری یا نام کو بنیاد بنا کر فیصلہ کرنے کی بجائے متعلقہ بینک کے مکمل معاہدےکی دستاویزات کسی مستند دارالافتاء یامفتی صاحب کودیکھاکرحکم شرعی معلوم کرتے ہوئے اس پرعمل کرے۔
کماقال اللہ تعالی في التنزیل ﴿ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡبَيۡعُ مِثۡلُ ٱلرِّبَوٰاْۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ﴾ [البقرة: 275]
وفي «مسند أحمد» : عن عبد الرحمن ابن عبد الله بن مسعود عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم قالَ: "لعن الله اكل الربا، وموكله، وشاهديه، وكاتبه"، قال: وقال: "ما ظهر في قوم الربا والزنا إلا احلُّوا بأنفسهم عقابَ الله عز وجل".(4/ 43 ت أحمد شاكر)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0