ہمارے دادا جان نے اپنی زندگی میں ہی اپنی جائیداد ہمارے والد صاحب کو ہبہ کردی تھی کیونکہ ہم اپنے آبائی گاؤں میں دادا جان کیساتھ رہ رہے تھے اور والد صاحب کو ہدایت/وصیت کی تھی کہ جب کوئی اپنے حصے کا تقاضا کرے تو ہبہ کے کاغذات دکھا دیں لیکن ہمارے والد صاحب کا انتقال دادا جان کی حیات میں ہوگیا رہائشی جائیداد پر ہم پچھلے تیس سال سے زائد عرصہ سے مقیم ہیں۔ اب دادا کی وفات کے بعد چچا اور پھپھو اپنے حصے کا تقاضا کر رہے ہیں مذکورہ صورت میں کیا شرعی احکامات ہیں؟
2-یہ ہماری آباؤ اجداد کی رہائشی جائیداد ہے پاکستان بننے سے پہلے جو کسی کے نام پر نہیں جو لوگ اپنی رہائش بناتے گئے اس میں منتقل ہوتے گئے کسی نے آج تک اپنے حصے کا تقاضا نہیں کیا کیونکہ گاؤں کی رہائشی جائیداد ہے جس کا قبضہ /مقیم ہوتا ہے وہ مالک تصور ہوتا ہے۔ اب ہبہ نامہ کے بعد اس جائیداد کی ملکیت ہمارے والد صاحب کے نام ہوئی تھی
سائل کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کے والد مرحوم کو ان کے والد مرحوم (سائل کے داد جان)نے مذکورجائیداد الگ اور متعین کرکے والد مرحوم کو قبضہ ومالکانہ تصرف کے ساتھ حوالہ کردی ہوتو اس سے ہبہ مکمل ہوکر سائل کا والد مرحوم اس زمین کا مالک بن چکا تھا ،اور اس کے انتقال کے بعد اب ان کے ورثاء اس میں حسب حصص شرعیہ حصہ دار ہونگے،سائل کے چچا یا پھو پھو کا اس جائیداد میں کوئی حصہ نہیں اس لئے انہیں اپنے اس ناجائز مطالبہ پر اصرار سے احتراز لازم ہے۔
کمافی الدر المختار: (و) تصح (بقبول) أي في حق الموهوب له أما في حق الواهب فتصح بالإيجاب وحده؛ لأنه متبرع حتى لو حلف أن يهب عبده لفلان فوهب ولم يقبل بر وبعكسه حنث بخلاف البيع(و) تصح (بقبض بلا إذن في المجلس) فإنه هنا كالقبول فاختص بالمجلس (وبعده به) أي بعد المجلس بالإذن، وفي المحيط لو كان أمره بالقبض حين وهبه لا يتقيد بالمجلس ويجوز القبض بعده (والتمكن من القبض كالقبض فلو وهب لرجل ثيابا في صندوق مقفل ودفع إليه الصندوق لم يكن قبضا) لعدم تمكنه من القبض (وإن مفتوحا كان قبضا لتمكنه منه) فإنه كالتخلية في البيع اختيار وفي الدرر والمختار صحته بالتخلية في صحيح الهبة لا فاسدها وفي النتف ثلاثة عشر عقدا لا تصح بلا قبض (ولو نهاه) عن القبض (لم يصح) قبضه (مطلقا) ولو في المجلس؛ لأن الصريح أقوى من الدلالة(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها۔(کتاب الھبۃ، ج:5،ص:690 ،مط:ایچ ایم سعید)
وفی البحر الرائق: قوله وقبض بلا إذن في المجلس وبعده به) يعني وبعد المجلس لا بد من الإذن صريحا فأفاد أنه لا بد من القبض فيها لثبوت الملك لا للصحة والتمكن من القبض كالقبض اھ( باب مونۃ رد الودیعۃ علی المالک،ج:7،ص:285،مط: دار الكتاب الإسلامي)
وفی مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامیہ: وقبض كل شيء بحسبه وقال أبو حنيفة: التخلية في ذلك قبض، وقد روى أبو الخطاب عن أحمد رواية أخرى، أن القبض في كل شيء التخلية مع التمييز لأنه خلى بينه وبين المبيع من غير حائل فكان قبضًا له كالعقارإلى أن قال: ولأن القبض مطلق في الشرع فيجب الرجوع فيه إلى العرف كالإحراز والتفرق. (حُكم قبض الشي وهل هو قبض لمحتواه، ج:6،ص:532)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1