السلام علیکم
میرے والد گورنمنٹ ملازم تھے، 2003 میں میرے والد صاحب کا انتقال ہوا، اس وقت میری عمر 2 سال تھی جبکہ میری بہن کی عمر 11 ماہ تھی، والد صاحب کے انتقال کے بعد جو رقم (سروس بینیفٹس، گریجویٹی اور جاب) ملی، تو اس سے انہوں نے گھر خریدا، اور گورنمنٹ جاب والد صاحب کی میری والدہ کو ملی اور پنشن بھی ابھی تک مل رہی ہے، والد صاحب کے انتقال کے فوراً بعد 2005 میں انہوں نے دوسری شادی بھی کر لی۔
شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں:
(1) کیا والد صاحب کے انتقال کے بعد ملنے والی رقم سے لیے گئے مکان میں میرا حصہ ہے یا نہیں؟ ہم دونوں بہن بھائی شادی شدہ ہیں، اور میرے بہنوئی بھی گورنمنٹ ملازم ہیں، جبکہ میری پرائیویٹ جاب ہے۔
(2) انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا تھا، بہت زیادتی کے بعد، پھر کچھ ماہ بعد میں واپس گھر آیا تو انہوں نے ایک اقرار نامہ پر دستخط کرکے بلایا، لیکن اب دوبارہ مجھے گھر سے نکال رہی ہیں، تو از روئے شرع کیا اس گھر میں ہمارا حصہ ہے جو والد صاحب کی گریجویٹی کی رقم سے خریدا گیا؟ورثا میں بیوہ (یعنی والدہ)، ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں۔
واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کے آفس سے گریجویٹی کے نام سے جو رقم ملی ہے، وہ مرحوم کا ترکہ نہیں بلکہ یہ ادارہ کی طرف سے مرحوم کے زیرِ کفالت افراد کے ساتھ تعاون اور تبرع ہے، چنانچہ یہ رقم اگر ادارہ کی پالیسی کے مطابق بغیر کسی تعیین کے مرحوم کے تمام ورثاء کے لئے بطورِ تعاون جاری کی گئی ہو، اور بیوہ کے فقط بچوں کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے یہ رقم اس کے حوالے حوالہ کی گئی ہو، تو ایسی صورت میں مرحوم کے تمام ورثاء اس میں برابر شریک ہوں گے، لہٰذا اس رقم سے اگر مرحوم کی بیوہ نے مذکور مکان تمام ورثاء کے لئے خریدا ہو، تو تمام ورثاء اپنے حصہ کے بقدر اس مکان میں شریک شمار ہوں گے، اور انہیں اپنے حصے کے مطالبہ کا حق بھی حاصل ہوگا، (تاہم معاملہ کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی وضاحت کرکے اُس کے موافق حکم معلوم کیا جا سکتا ہے)،البتہ اگر ادارے نے مرحوم کی بیوہ کو نامزد کرکے اُنہی کے لئے اُس کے نام پنشن کی رقم جاری کی ہو، تو وہ رقم اُس کی ملکیت ہوگی، جس میں کسی کو حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں، تاہم سائل کی والدہ کا سابقہ مرحوم شوہر کے توسط سے حاصل ہونے والے وسائل پر قابض ہو کر اُس کے حقیقی بیٹے کو اُس سے مکمل طور پر بے دخل کرنا انتہائی درجہ کی خود غرضی اور مفاد پرستی پر مشتمل رویہ ہے، اس لئے اُسے اپنے اُس طرزِ عمل سے احتراز لازم ہے۔
كمافي بدائع الصنائع:لأن العفو إنما يكون من صاحب الحق، ولا يصح الصلح والاعتياض؛ لأن الاعتياض عن حق الغير لا يصح ولا يجري فيه الإرث؛ لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا، والله سبحانه وتعالى أعلم اھ(«فصل في شرائط جواز إقامة الحدود،ج:٧،ص:٥٧،ط:سعید)
وفيه ايضاََ: وفی بدائع الصنائع: اما اصل الحکم فھو ثبوت الملك للموھوب له فی الموھوب من غیر عوض لأن الهبة تملیك العین من غیر عوض فکان حکمھا ملك الموھوب من غیر عوض ،الخ(فصل فی حکم الہبۃ،ج:٦،ص: ١٢٧،ط:سعيد)
وفيہ ایضاََ: لأن الوكيل يتصرف بولاية مستفادة من قبل الموكل فيملك قدر ما أفاده، ولا يثبت العموم إلا بلفظ يدل عليه، وهو قوله: اعمل فيه برأيك وغير ذلك مما يدل على العموم اھ(فصل في بيان حكم التوكيل،ج:٦،ص:٢٨،ط:سعيد)
وفی البحرالرائق:وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئاإلا إذا قال ضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه كذا في الولوالجية اھ(شروط أداء الزكاة،ج:٢،ص:٢١١،ط:رشیدیہ)
وفی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:فالتبرع هو إعطاء الشيء غير الواجب، إعطاؤه إحسانا من المعطي اھ((المادة ٥٧) لا يتم التبرع إلا بقبض،ج:١،ص:٥٧،ط:دار الجيل)
وفيها ایضاََ:لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره (انظر المادة 1192) (منافع الدقائق، والأشباه اھ(الباب الرابع في بيان المسائل التي تتعلق بمدة الإجارة،ج:١،ص:٥٩٩،ط:دار الجيل)
وفيهايضاََ: كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير.(الكتاب العاشر الشركات،الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأملاك، ج: ٣، ص: ٢٠١، رقم المادة : ١١٩٢، مط: دار الجيل)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0