کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا، جس کے بعد میں نے دوسری شادی کرلی ، میرے شوہر کا انتقال اپنے والد کے بعد ہوا ہے، جن کے ورثاء میں بیوہ، والدہ، ایک بیٹی، سات بھائی، چار بہنیں ہیں، اس صورت میں میرے شوہر کے ترکہ میں میرا کتنا حصہ ہوگا، جبکہ میرے سسر کا انتقال میرے شوہر سے پہلے ہوگیا تھا، جس کے ورثاء میں بیوہ، آٹھ بیٹے، اور چار بیٹیاں موجود تھی۔
واضح ہو کہ بیوہ کی عدت گزرجانے کے بعد دوسری شادی کرلینے سے اس کا اپنے سابقہ شوہر کی وراثت سے حصہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ بدستور مرحوم شوہر کی بیوہ کی حیثیت اس کے ترکہ میں حق دار ہوتی ہے،چنانچہ صورتِ مسئولہ سائلہ کا دوسرے نکاح کے باوجود اس کا شرعی حصہ برقرار ہے، اور شوہر کے ترکہ میں (خواہ والد مرحوم کی طرف سے ملا ہو یا ذاتی کمائی ہو) وہ اپنے شرعی حصہ کی حقدار ہے، چنانچہ پہلے مرحوم سسر کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہرقسم کاچھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا، جس میں سےسب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کی ایک تہائی (3/1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جوکچھ بچ جائے اس کےکل ایک سو ساٹھ(160) حصے بنائے جائیں، جس میں مرحوم کی بیوہ کوبیس (20)، ہر بیٹے کو چودہ (14)، ہر بیٹی کو سات (7)حصے دئے جائیں ، جیسا کہ درجِ ذیل نقشےسے بھی واضح ہورہاہے،مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے گئے ، ملاحظہ :
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے مرحوم شوہر کو اپنے مرحوم والد سےبطورِ میراث ملنے والا حصہ اور اس کے علاوہ بوقتِ انتقال خود اس کی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہرقسم کاچھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان موجود ہو، وہ سب مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا، چنانچہحقوق متقدمہ على المیراث (تجہیز و تکفین کے اخراجات، قرض کی ادائیگی، ایک تہائی (3/1)کی حد تک جائز وصیت پر عمل ) کے بعدجو کچھ بچ جائے، اس کےکل چار سو بتیس (432) حصے بنائے جائیں، جس میں مرحوم کی بیوہ کوچون (54)اور والدہ کو چار (4)، بیٹی کو بارہ (12)، اور ہر بھائی کو دس (10)، ہر بہن کو پانچ (5)حصے دئے جائیں، جیسا کہ درجِ ذیل نقشےسے بھی واضح ہورہاہے،مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے گئے ، ملاحظہ ہو: