(وصیت نامہ)
میں حاجی عبدالرحمن صدیق ولد حاجی عبدالمجید مرحوم، ساکن نصرت کالونی نزد شالیمار سنیما یونین کونسل نمبر 8 سکھر کا رہائشی ہوں، میں اپنے ہوش و حواس میں یہ وصیت نامہ اپنی زندگی میں تحریر کر رہا ہوں تا کہ میرے مرنے کے بعد گھر میں کسی قسم کا جھگڑا یا فساد نہ ہو،میرا ایک مکان جو کہ C584/97 ہے، جو کہ میری ملکیت ہے، تین کمروں پر مشتمل ہے، اور اتنا ہی بڑا ایک صحن ہے، میں اس مکان کو تین حصوں میں تقسیم کر رہا ہوں، ایک کمرہ اپنے لیے اور ایک کمرہ اپنے بڑے بیٹے محمد یوسف مرحوم کے دو بیٹوں جو کہ میرے پوتے ہیں، جن کا نام سکندر محمد یوسف اور میرے دوسرے پوتے مزمل ولد محمد یوسف مرحوم کے لئے دے رہا ہوں، اور ایک کمرہ میرے چھوٹے بیٹے محمد اقبال کے لیے ہے،میری ایک بہن رشیدن زوجہ عبداللطیف مرحوم اور میری دو بیٹیاں سکینہ زوجہ محمد اقبال ساکن فیصل آباد اور میری چھوٹی بیٹی شکیلہ زوجہ اشفاق احمد ساکن فیصل آباد ہیں، ان تینوں نے مجھ سے اس مکان میں سے حصہ نہ لینے کا کہا ہے، اور مکان میں سے دستبردار ہو گئی ہیں، اگر میری بہن رشیدن زوجہ عبداللطیف یا میری بڑی بیٹی سکینہ زوجہ محمد اقبال اور میری چھوٹی بیٹی شکیلہ زوجہ اشفاق احمد اگر میری زندگی میں مجھ سے مکان کا حصہ لینے کا مطالبہ کریں گی تو میں اپنے حصے کے مکان میں سے ان کو ان کا حصہ دوں گا، یہ وصیت نامہ تحریر کر رہا ہوں۔(ختم شد)
عرض یہ ہے کہ ہمارے دادا عبدالرحمن صدیق مرحوم جن کا ایک مکان تھا، جو کہ ہمارے چچا محمد اقبال صدیق نے ہم دونوں بھائیوں کی رضامندی سے بیچ دیا ہے، تو دادا کی وصیت کے مطابق وہ اپنی زندگی میں اس مکان کی تین حصوں میں تقسیم کر چکے ہیں، ایک حصہ دادا نے اپنے لئے رکھا تھا، اور ایک حصہ اپنے چھوٹے بیٹے محمد اقبال کے نام لکھا، اور ایک حصہ اپنے بڑے بیٹے محمد یوسف مرحوم کے دونوں بیٹوں سکندر اور مزمل کے نام لکھا،دادا کی دو بیٹیاں شکیلہ اور سکینہ ہیں جو کہ وصیت کے مطابق دادا کی زندگی میں اپنے حصے سے دستبردار ہو چکی ہیں، لیکن دادا نے وصیت میں لکھا ہے کہ اگر وہ دادا کی زندگی میں اپنے حصے کا مطالبہ کرتی ہیں تو دادا کے حصے سے ان کی بیٹیوں کو ان کا حصہ دیا جائے گا، تو دادا کی دونوں بیٹیاں اور ایک بیٹا حیات ہیں۔
(نوٹ) حاجی عبدالرحمن صدیق مرحوم کے انتقال کے وقت ورثاء میں بیوہ (انوری)، ایک بیٹا محمد اقبال صدیق اور دو بیٹیاں شکیلہ، سکینہ موجود تھیں، اس کے بعد بیوہ (انوری) کا انتقال ہو گیا، ورثاء میں ایک بیٹا مذکور، اور دو بیٹیاں موجود تھیں،عبدالرحمن نے جس مکان کے متعلق وصیت لکھی ہے، خود وفات تک اپنے مکان میں رہتے رہے، کسی کو قبضہ نہیں دیا تھا، تو یہ وصیت معتبر ہے کہ نہیں، خاص کر پوتوں کے بارے میں؟جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
واضح ہو کہ وارث کے حق میں کی گئی وصیت شرعاً معتبر نہیں، لہٰذا یہ وصیت مرحوم کے بیٹے اقبال کے حق میں معتبر نہیں ہے، اور نہ ہی کسی وارث کا فقط اپنے حصے سے دستبرداری کے اعلان سے شرعاً اُس کا حصہ میراث سے ساقط ہوتا ہے، لیکن صورتِ مسؤلہ میں بیٹے کی موجودگی میں پوتے وارث نہیں ہوتے، تو اُن کے حق میں کی گئی وصیت معتبر ہوگی، اور جائیداد کے ایک تہائی کی حد تک نافذ العمل بھی ہوگی، ایک تہائی کے علاوہ بقیہ جائیداد میں تمام ورثاء حسبِِ حصصِ شرعیہ شریک ہوں گے، لہٰذا مذکور بیٹے مسمیٰ محمد اقبال کا فقط دو پوتوں کی رضامندی سے مذکور مکان فروخت کرنا درست نہیں تھا، البتہ اگر وہ یہ تصرف کر چکے ہیں، تو اس کے نتیجہ میں ملنے والی رقم میں سے پوتوں کے حق میں آنے والے حصہ کو چھوڑ کر بقیہ تمام رقم بشمول ورثاء میں حسبِِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنی لازم ہوگی، لیکن اگر وہ ورثاء (بہنیں) بھائی کے حق میں دستبردار ہونا چاہتی ہوں، تو اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ ان کے حصہ میں آنے والی رقم باقاعدہ ان کے حوالے کرکے ان کے قبضہ میں دے دی جائے، اگر وہ اپنی مرضی و خوشی سے یہ مکمل رقم یا کچھ حصہ بھائی کو بطورِ گفٹ دے دیں، اس کے بعد یہ گفٹ شرعاً بھی معتبر ہو کر بھائی اس تمام رقم کا مالک بن جائے گا، اور اس میں اس کے کل تصرفات درست ہوں گے۔
وفی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا۔الخ(کتاب الھبۃ، ج: ٥ ،ص: ٦٩٠، ط: سعید)
وفي الهندية: ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية اھ(كتاب الوصايا، ج: ٦، ص: ٩٠، ط: ماجدية)
وفيها ايضاََ: ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل اھ(كتاب الوصايا، ج: ٦، ص: ٩٠، ط: ماجدية)
وفیها ایضاََ: وإذا قال: أوصيت أن يوهب لفلان ثلث داري بعد موتي كان ذلك وصية، ولا يشترط قبضه في حياة الموصي اھ(كتاب الوصايا: الباب الثاني في بيان الألفاظ التي تكون وصية والتي لا تكون وصية، ج: ٦، ص: ٩٣، ط: ماجدية)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0