زید ایک مسجد میں امام ہے،مسجد کی انتظامیہ میں ایک صاحب اور امام مسجد (زید )بطور خزانچی ہیں دونوں مشورہ سے معاملات دیکھتے ہیں ،زید (امام مسجد)کو اپنی ضرورت کیلئے چار لاکھ پچاس ہزار روپے (450000)کی ضرورت پڑی ،اور وہ ان پیسوں کی واپسی پر قادر ہے اس طور کہ اس کے پاس ایک تولہ سونا کے کچھ اوپر سونا ہے ،لیکن چونکہ فی الحال سونے کی قیمت گر چکی ہے لہذا زید نے مسجد کے پیسوں سے چار لاکھ پچاس ہزار روپے (450000)بطور قرض لے کر اپنی ضرورت پوری کی، اور کچھ مہینے انتظار کرنا چاہتا ہے کہ سونے کی بھاؤ اوپر ہوتے ہی سونا بیچ کر سارا قرضہ ادا کردے گا،اور مسجد کے دوسرے ساتھیوں کو زید اپنے اس عمل کے بارے میں بتا چکا ہے،اور اس رقم میں سے ایک لاکھ روپے(100000) دو دن میں واپس کر دئیے تھے ،اب باقی کل قرض تین لاکھ پچاس ہزار (350000) باقی ہے،اب آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ زید کا یہ عمل جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ مسجد کی رقم مسجد کی کمیٹی یا خزانچی وغیرہ کے پاس امانت ہوتی ہے، اور امانت میں اس طرح کا تصرف کرنا جائز نہیں،چنانچہ یہ رقم نہ کسی اور کو بطور قرض دی جاسکتی ہے اور نہ ہی کمیٹی کے لوگ خود بطور قرض لے سکتے ہے،اگر ایسا کر لیا تو یہ شرعاً خیانت شمار ہوگی ، لہذا صورت مسؤلہ میں مذکور امام مسجد کا انتظامیہ کے علم میں لائے بغیر ازخود اس رقم سے قرض لیکر بعد میں انتظامیہ کو آگاہ کرنا جائز نہیں بلکہ اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگئے ،لہذا اب اسے اپنے اس عمل پر توبہ واستغفار کرتے ہوئے جلد ازجلد اس رقم کو مسجد کی فنڈ میں واپس جمع کرانا اور آئندہ کے لئے اس عمل سے مکمل طور پر اجتناب لازم ہے ۔
کما فی البحر الرائق: قال العلامة ابن نجيم رحمه الله: أن القيم ليس له إقراض مال المسجد. قال في جامع الفصولين: ليس للمتولي إبداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه، فلو أقرضه ضمن ، وكذا المستقرض،اھ (كتاب الوقف،تصرفات الناظر في الوقف،ج: 5،ص: 259،مط: دار الکتاب الاسلامی)
و فی العقود الدریة: أن القيم ليس له إقراض مال المسجد قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض،اھ(كتاب الوقف،الباب الثالث في أحكام النظار،ج: 1،ص: 229،مط: دار المعرفة)
وفي الفتاوى الهندية: الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن،اھ (كتاب الوديعة،الباب الأول في تفسير الإيداع،ج: 4،ص: 338،مط: دار الفکر )
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0