مسئلہ یہ ہے کہ ایک میت کے تین بچے ہیں: دو بیٹے اور ایک بیٹی، ترکے میں ایک گھر ہے، جس کی مالیت تقریباً 3 کروڑ روپے ہے، اور اب ورثاء اس کی تقسیم کرنا چاہتے ہیں، جھگڑا یہ ہے کہ ایک بھائی کہتا ہے کہ گھر میں جو حصہ بہن کا بنتا ہے، ہم دونوں بھائی مل کر اس کی قیمت بہن کو ادا کر دیتے ہیں، اور گھر میں صرف ہم دونوں بھائی رہیں گے، جبکہ دوسرا بھائی کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا، بلکہ بہن کو گھر میں اس کا شرعی اور قانونی حصہ دیا جائے گا، بہن بھی یہی چاہتی ہے کہ اسے گھر میں گھر کے اندر ہی اس کا حصہ ملے اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ وہاں رہ سکے، پہلا بھائی کہتا ہے کہ اگر بہن وہاں رہے گی تو مشکلات پیدا ہوں گی، کیونکہ ممکن ہے وہ اپنے حصے میں کوئی کاروبار یا سامان فروخت کرنے کا کام شروع کر دے، جس کی وجہ سے لوگوں کا آنا جانا بڑھے گا اور گھر کے دوسرے رہائشیوں کو دشواری ہوگی، اس کے جواب میں دوسرا بھائی کہتا ہے کہ جب وہ حصہ بہن کی ملکیت ہوگا تو اسے حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے حصے میں جائز طور پر جو چاہے کرے، مزید تفصیل یہ ہے کہ گھر 120 گز کا ہے۔ اوپر کی منزل اس وقت دو حصوں میں تقسیم ہے، تقریباً 60 گز ایک طرف اور 60 گز دوسری طرف۔ ایک طرف ایک بھائی رہتا ہے اور دوسری طرف دوسرا بھائی، البتہ گراؤنڈ فلور مکمل طور پر مشترک ہے، اس میں کوئی دیوار یا مستقل تقسیم موجود نہیں ہے اور وہ دونوں بھائیوں کے استعمال میں ہے، اب سوال یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے اس گھر کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ کیا بہن کو اس کا حصہ گھر کے اندر دینا ضروری ہے یا دونوں بھائی اس کے حصے کی قیمت ادا کر سکتے ہیں؟ اگر بہن قیمت لینے پر راضی نہ ہو تو کیا اسے گھر میں عملی حصہ دیا جائے گا؟ اور ایسی صورت میں جبکہ اوپر کی منزل دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے ، لیکن گراؤنڈ فلور مشترک ہے، شرعاً تقسیم کا درست طریقہ کیا ہوگا؟ براہِ کرم قرآن، سنت، فقہاء کے اقوال اور شرعی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں اگر سائل کی بہن والدمرحوم کے ترکہ میں سے اپنے حصے کی قیمت لے کرمذکور گھر سے دستبردار ہونے پر رضامند ہو، تو دونوں بھائی باہمی رضامندی سے آج کی مارکیٹ ویلیو معلوم کر کے اس حساب سے اس کا حصہ خرید سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ قیمت لینے پر راضی نہ ہو اور اپنے شرعی حصے کےمطابق گھرکا قبضہ لیکراپنے استعمال میں لانا چاہتی ہو، تو اسے اس کے حصے سے محروم کرنا جائز نہیں، بلکہ شرعاً اسے گھر میں اس کے شرعی حصے کے مطابق حصہ دینا لازم ہوگا۔
البتہ چونکہ گھر کی موجودہ ہیئت میں عملی تقسیم نزاع کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے بہتر اور منصفانہ طریقہ یہ ہے کہ تمام ورثاء باہمی رضامندی سے یا ماہرین کی مدد سے گھر کی ایسی تقسیم کر لیں جس سے ہر وارث اپنے حصے پر مستقل قبضہ حاصل کرلے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو گھر فروخت کر کے اس کی قیمت شرعی حصص کے مطابق تقسیم کر دی جائے۔
کما فی الھندیۃ : وركنها اجتماع النصيبين، وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك، ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور ومن غير شريكه بغير إذنه إلا في صورة الخلط والاختلاط، كذا في الكافي.(کتاب الشرکۃ، الفصل الأول في بيان أنواع الشركة، ج: ٢، ص: ٣٠١، مط: ماجدية)
و فی الدر المختار: وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الامتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه) لعدم تضمنها الوكالة (فصح له بيع حصته ولو من غير شريكه بلا إذن إلا في صورة الخلط) لماليهما بفعلهما،(کتاب الشرکۃ، ج: ٤، ص: ٣٠٠، مط: سعيد)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2