سائل کے والد مرحوم (محمد یحیٰ جاگیرانی) کا انتقال 2023میں ہوا ہے، محمد جاگیرانی کے ورثاء درج ذیل ہیں، زوجہ(شہر بانو) فریدہ خاتون جو کہ مطلقہ ہے، اور اولاد میں تین بیٹے (آدم حسین، امیر حمزہ، محمد سمیع) اور ایک بیٹی (اسرٰی خاتون) ہیں، والد مرحوم کی ملکیت میں آٹھ(8) پلاٹ (800 فٹ، 1050فٹ، 2000فٹ، 2100فٹ، 1900فٹ، 2100فٹ، تین(3) دکانیں مع گھر کے، 2700فٹ) ایک رہائشی گھر، اور ایک آلٹو کار جس کی قیمت انتیس لاکھ(2900000) ہے، یہ کل ملکیت ہے جو کہ مرحوم نے ورثے میں چھوڑی ہےجو کہ اب مرحوم کے بھائیوں نے غصب کر رکھی ہیں، اور غیر شرعی اور اٹکل واندازے سے تقسیم کی ہے، لہذا اب مندرجہ بالا ملکیت ان ورثاء میں کس تناسب سے تقسیم کی جائے گی۔
دعوی بندہ : سائل کے چچاؤں نے غیر شرعی طور پر وراثت جاری کر کے باقی غصب کرلی ہے جو کہ اب ورثاء کے حوالے نہیں کی جارہی ہے، لہٰذا سائل دوبارہ شرعی طور پر وراثت جاری کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
نوٹ: چچا خادم حسین جاگیرانی کا قرض بمع خرچہ انتیس لاکھ (2900000) روپے ہے، ہمارا ایک پلاٹ جس کی قیمت ساٹھ لاکھ(6000000) تھی ، اس نے انتالیس لاکھ (3900000) میں ہم سے اٹھایا، جس میں سے سات لاکھ اسی ہزار (780000) موصول ہوئے ہیں اور بقیہ انتالیس سے ساٹھ لاکھ تک کا غصب کے طور پر انہوں نے لیا ہے۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل کے چچاؤں نے اپنے مرحوم بھا ئی کی جائیداد پر ناحق قبضہ کر کے جائیداد کی غیر شرعی غیر منصفانہ تقسیم کرلی ہو، اور ایک چچا نے پلاٹ کی کم قیمت ادا کرکے باقی پر قبضہ کرلیا ہو، تو سائل کے چچا ؤں کا یہ عمل شرعاً ناجائز ہونے کے ساتھ ظلم اور غصب پر مبنی ہے، اسکی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہو رہے ہیں ، لہذا ان پر لازم ہے کہ مرحوم کا ترکہ اور مرحوم کے دیگر ورثاء کا ترکہ حوالہ کرکے مواخذہ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی کی فکر کریں، بصورت دیگر سائل اور والد مرحوم کے دیگر ورثاء اپنے حق کی وصولی کے لئے قانونی چارہ جوئی کے بھی مجاز ہیں ۔
کما فی الصحیح للبخاری: عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل : أنه «خاصمته أروى في حق زعمت أنه انتقصه لها إلى مروان فقال سعيد: أنا أنتقص من حقها شيئا أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»(رقم حدیث، 3198، ج4، ص 108)۔
وفی مشکاۃ المصابیح: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» (رقم الحدیث، 3078، ج1، 926، ط: الامکتبۃ الاسلامی، بیروت)۔