موضوع: شہداء کے لیے حکومتی امداد کی شرعی تقسیم اور یتیم بچوں کی ولایت کا مسئلہ
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
جناب مفتی صاحبان میرا شرعی مسئلہ گورنمنٹ کیطرف سے امدادی چیک کا ہے
میرے دو بیٹوں۔22 سالہ۔نعمت اللہ ، اور17 سالہ عبداللہ جوکہ میرے ساتھ رہتے تھے اور میری دوکان میں میرے ساتھ ہوتے تھے سانحہ گل پلازہ کراچی میں شہید ہوئے ۔
گورنمنٹ کے طرف سے تمام شہداء کے لواحقین کو امدادی چیک دیئے گئے۔ ہماری دو چیک میری
مرحومہ اہلیہ کے نام بنائی گئی تھی جوکہ 2014 میں وفات پاچکی ہے۔ پھر ہم نے مذکورہ چیک گورنمنٹ کو واپس کروائی تاکہ نام کی درستگی ہو،ایک چیک کے لئے میں نے اپنا نام اور دوسرے چیک کیلئے نعمت اللہ شہید جوکہ تین سال پہلے اسکے شادی ہوئی تھی اور اس کی ایک 2 سال کی بچی بھی ہے اور ایک دوسرے بچہ کی بھی امید ہے۔۔۔اس کی بیوہ یعنی میری بہو کے نام فراہم کئے۔ چیک ہمیں وصول ہوئے ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ میری بہو کی عدت بھی پوری نہیں ہوئی ہے اور وہ اپنی والدین کی گھر چلی گئی مستقل طور پر اپنی مرضی سے اب لڑکی کا والد مجھ سے چیک کا مطالبہ کررہا ہے ۔ برائے مہربانی اپ مجھے قرآن اور حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل بتائیں اور بچوں کے یعنی میرے پوتوں کے مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہوگا،جوکہ ابھی اپنی ماں یعنی میری بہو کے ساتھ ہے ۔
حکومت کی طرف سے حادثات وغیرہ میں شہید ہونے والوں کے پسماندگان کو دی جانے والی امدادی رقم مرحوم کا ترکہ ومیراث نہیں بلکہ یہ حکومت کی طرف سے مرحوم کے زیر کفالت افراد کےلئے عطیہ اور تبرّع ہے، اگر حکومت کسی خاص فرد کے نام چیک جاری کرتی ہے، تو شرعی طور پر وہی شخص اس رقم کا تنہا مالک اور حقدار ہوگا، اور دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔(کذا فی فتوی رقم: 29359)لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں حکومت کی طرف سے اگر سائل کی بہو کے نام ہی چیک جاری کیا گیا ہو جس میں کسی اور کو شریک نہ کیا گیا ہو تو شرعاً اس رقم کی مالک سائل کی بہو ہی کہلائےگی،اس میں سائل یا کسی اور کا کوئی حق نہ ہوگا۔چنانچہ سائل پر لازم ہے کہ وہ اس حکومتی چیک کوبہو کے حوالے کرے،اس معاملے میں لڑکی کے والد کا مطالبہ شرعاً درست ہے۔
جبکہ سائل کی پوتی کی عمر نو سال ہونے تک وہ اپنی ماں(سائل کی بہو)کی پرورش میں رہے گی بشرطیکہ اس دوران سائل کی بہو بچی کے کسی غیر محرم(اجنبی)سے نکاح نہ کرلے،جبکہ مذکور مدّت کے بعد سائل بچی کو اپنی تحویل میں لے سکتاہے۔اور اگر بچی کے والد نے ترکہ میں کچھ چھوڑا ہو تو دورانِ پرورش بچی کی کفالت پر آنے والے ضروری اخراجات بچی کے حصۂ میراث سے پورے کئے جائیں گے،البتہ اگر والد نے ترکہ میں کچھ نہ چھوڑا ہو یا بچی کو ترکہ میں سے ملنے والا حصہ اس کے اخراجات کےلے ناکافی ہو تو اس صورت میں یہ اخراجات بچی کے دادا اور والدہ کے ذمہ دو اور ایک تہائی کے حساب سے لازم ہوں گے۔چنانچہ اخراجات کا دو تہائی (2/3) حصہ دادا، اور ایک تہائی (1/3) حصہ والدہ کے ذمّہ لازم ہوگا،اور یہی حکم پیدا ہونے والے بچہ کا بھی ہے۔البتہ اگر وہ لڑکا ہو تو وہ سات سال کی عمر ہونے تک والدہ کی پرورش میں رہےگا،اس کے بعد دادا وغیرہ اولیاء کو اسے اپنی تحویل میں لینے کا حق حاصل ہوگا۔جبکہ سائل کی بہو کے ذمہ اگر چہ شوہر کے گھر عدّت گزارنا لازم تھا اور بلا کسی عذر دورانِ عدّت گھر سے نکلنے کی وجہ سے وہ گناہگار ہوچکی ہے،جس پر اسے توبہ واستغفار کرنا لازم ہے۔ تاہم عدّت کے دوران اس گناہ کے ارتکاب سے بہو کی مالی ملکیت ( چیک) پر کوئی اثر نہیں پڑتا؛ وہ چیک بدستور اسی کا حق اور ملکیت ہے۔
«المبسوط» للسرخسي :
(قال): رضي الله عنه وإذا اختلعت المرأة من زوجها على أن تترك ولدها عند الزوج، فالخلع جائز، والشرط باطل؛ لأن الأم إنما تكون أحق بالولد لحق الولد۔[باب الولد عند من يكون في الفرقة:6/ 169)
«الجوهرة النيرة على مختصر القدوري» :
«(قوله وتجب نفقة الابن الزمن والابنة البالغة على الأبوين ثلاثا على الأب الثلثان وعلى الأم الثلث) اعتبارا للميراث۔۔۔(قوله ولا تجب على فقير) ؛ لأنها تجب صلة والفقير يستحقها على غيره فكيف تستحق عليه»(2/ 93)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0