كىا فرماتے ہىں علماء كرام مندرجہ ذىل مسئلہ مىں كہ ہمارے والد صاحب مرحوم كا انتقال ہو چكا ہے، بوقت انتقال ورثاء مىں بىوه ، چار بىٹے اور چار بىٹىاں موجود تھىں، مىرے والد صاحب ڈاك پىپر بورڈ كے ملازم تھے، والد صاحب كے وفات كے بعد والد كے ملازمت كا كارڈ بڑے بىٹے كو ملنا تھا،لىكن وه كچھ ذہنى بىمار تھے، تو والد كا كارڈ مىرے كے نام ہوگىا، جس پر مىں ڈىوٹى كرتا رہا ہوں، اور اس مىں دىگر بہن بھائىوں كو خرچہ دىتا رہا، گھر بھى بنائے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ والد کا جو کارڈ مجھے ملا ہے، اس تنخواہ میں میرے دیگر بہن بھائیوں کا حق بنتا ہے کہ نہیں؟ اس طرح ریٹائرمنٹ کے بعد یا کمپنی سے فارغ کرنے کے بعد جو جمع فنڈ ملتا ہے، اس میں دیگر بہن بھائیوں کا حصہ بنتا ہے کہ نہیں؟ اس کے علاوہ میرے والد کا جو تركہ ہے اس میں میں اپنے حصہ شرعی کے مطابق حصہ دار ہوں کہ نہیں؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائىں۔
صورت مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم کے انتقال پر، سائل کو دی جانے والی ملازمت مرحوم کی ملازمت کا مورثى حق نہیں، بلکہ متعلقہ ادارے کی جانب سے مرحوم (سائل کے والد) کے اہل خانہ کے ساتھ اعانت کی بنیاد پر ایک خصوصی تقرر ہے۔ جس کی ذمہ داری پوری کرنے پر سائل اس تنخواہ کا حقدار بنتا ہے۔ لہٰذا سائل کے دیگر بہن بھائیوں کا سائل کی تنخواہ میں شرعا کوئی حصہ نہیں۔ اسی طرح سائل کے ملازمت شروع کرنے کے بعد جو فنڈ اس کی تنخواہ سے منہا کیا گیا یا محکمہ کی طرف سے اس میں شامل کیا گیا، اگر وہ سائل کو مل جاتا ہے تو وہ بھی سائل کا حق ہوگا۔ البتہ، والد مرحوم اپنے انتقال کے وقت اس فنڈ میں سے جس قدر رقم کا حقدار بن چکا تھا اور قانونی طور پر وہ اس کے مطالبہ کا حق رکھتا تھا، اگر وہ رقم اس کے انتقال کے بعد ورثاء کو نہ ملی ہو، بلکہ بعد میں ملنے والے فنڈ کا حصہ ہو، تو حسب ضابطہ وہ رقم سائل سمیت تمام ورثاء کا حق ہوگا۔ نیز اس ملازمت ملنے کی وجہ سے سائل کا حصہ میراث، والد کے تركہ میں ساقط نہ ہوگا، بلکہ وہ دیگر بہن بھائیوں کی طرح حسب حصص شرعیہ اپنے حصہ کا حقدار ہوگا۔
كما في البحر الرائق: قال رحمه الله (يبدأ من تركة الميت بتجهيزه) المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه اهـ [كتاب الفرائض، يبدأ من تركة الميت بتجهيزه، ج:8 ص:557 ط: دار الكتاب الاسلامى]
وفی بدائع الصنائع: لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «عليه السلام: من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا، الله سبحانه تعالى أعلماهـ [كتاب الحدود، فصل في بيان صفات الحدود، ج:7 ص:57 ط: سعيد]
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0