السلام علیکم ورحمۃ الله و بر کاتہ!میرے تین بیٹے ہیں، جو کپڑوں اور کپڑے کی لیس وغیرہ کے کاروبار سے وابستہ تھے ،ہمارے پڑوس میں ایک دکاندار بھی یہی کاروبار کرتا تھا جو کافی عرصہ سے ہمیں تنگ کرتا رہتا تھا اور کئی مرتبہ جھگڑے پر بھی اتر آتا تھاایک دن و ہ شراب کے نشے میں پستول لے کر آیا اور میرے تینوں بیٹوں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں میرا بڑا بیٹا محمد کامران ران میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا، ہڈی ٹوٹ گئی اور اس میں لوہے کا راڈ ڈالنا پڑا،وہ تقریبا تین ماہ ہسپتال میں زیر علاج رہا، میرا دوسرا بیٹا اکرام کمر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور تاحال زیر علاج ہے،میرا تیسرا بیٹا محمد رضوان دو گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو ا تقریبا اکیس( 21 )دن ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد شہید ہو گیا،بعد از اں قاتل کے خاندان نے جرگہ کے ذریعے صلح کی درخواست کی ہم نے مقتول بیٹے کی دیت معاف کر دی اور زخمی بیٹوں اور ہسپتال کےاخراجات، اور تقریباً آٹھ ماہ تک چار دکانیں بند رہنے کی وجہ سے ہونے والے کاروباری نقصان کا (3000000) تیس لاکھ پر صلح کر دیا۔
میر اجو بیٹا محمد رضوان شہید ہو گیا تھا، اس کی بیوی عدت مکمل ہونے کے بعد اپنے والدین کے گھر چلی گئی ہے اس کا ایک دو سالہ بیٹا بھی ہے، جبکہ شھید بیٹے رضوان کے نکاح کا مہر 2 تولہ سونا لکھوایا تھا جس میں ہم نے ایک تولہ سونا اور ایک عد دانگھوٹی دے چکے ہیں اور باقی ہیں،دوسری بات جو میرا دوسرا بیٹا اکرام ہیں ابھی بھی زیر علاج ہیں ہر ماہ تقریباً33 ہزار روپے اسکی دوائی و غیر و پر خرچ ہوتی ہیں،اور ہمارا جو ایک سال میں نقصان ہواہیں تقریباً (1490000) چو دو لاکھ نویں ہزار ہیں اور اس میں جو ہماری چار( 4 )دکانے تھی وہ بھی ختم ہو چکی ہیں ،
اب سوال یہ ہیں کے جو ( 3000000) تیس لاکھ ہمیں نقصان اور علاج کے مد میں ملی ہیں نا کہ دیت کی مد میں اس میں میری بیوہ بہوں اور میرے ہوتے کا حق ہےیا نہیں؟اور اگر میں اپنے پوتے کی کفالت خود اپنے گھر میں کرو، یا اگر پوتا ہمیں ننیال والے نہ دے، یا میری بیوہ بہو کئی اور نکاح کرنا چاہے تو بچے کا کیا حق ہوگا ہم پر؟
(نوٹ :محمد رضوان مرحوم کی ورثا میں والد، والدہ، بیوہ اور ایک بیٹا موجود ہے)
براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
واضح ہو کہ قتل ِعمد کی صورت میں شرعاً قاتل کو قصاصاً قتل کرنے کا اختیار ورثا ء کو ہوتا ہے، تاہم اگر ورثا میں سے کوئی ایک وارث بھی قاتل کو معاف کردے تو شرعاً دیگر ورثاء کو قصاص کے مطالبہ کا اختیار نہیں رہتا بلکہ قاتل سے قصاص ساقط ہوجاتا ہے، لیکن اس معافی کے باوجود قاتل پر مقتول کے ورثاء کو دیت دینی لازم ہوگی، البتہ اگر کچھ ورثاء دیت میں سے بھی اپنا حق ساقط کردیں، تو اس کی وجہ سے دیگر ورثاء کا حق ِ دیت ساقط نہ ہوگا اور نہ ہی وہ اپنےحق سے محروم ہوں گے، بلکہ قاتل پر ان کے حصہ کی دیت انہیں حوالہ کرنی لازم ہوگی، لہذا صورت مسئولہ میں مقتول کے والد اور بھائیوں کا قاتل سے صلح کرنے کی وجہ سے اگرچہ اس سے قصاص ساقط ہوچکا ہے، اور اگر وہ اس سے دیت بھی معاف کرچکے ہوں، تو ان کے حصص کے بقدر قاتل سے دیت بھی معاف ہوچکی ہے ، مگر انہیں مقتول کے دیگر ورثاء بیوہ بچے کی جانب سے دیت کی معافی کا اختیار حاصل نہیں اور نہ ہی نابالغ بچوں کی طرف سے دیت کی معافی شرعاً معتبر ہوگی، بلکہ ان کے ذمہ اب بھی مقتول کی بیوہ بچے کا دیت میں سے ان کا حصہ دینا لازم ہے، جبکہ مقتول کے والد یا خاندان کے دیگر افراد کے لیے کسی بھی صورت میں یہ مناسب نہیں کہ مقتول کی بیوہ اور اولاد کو مروت وغیرہ یاد دلا کر دیت معاف کرنے پر مجبور کریں ،اوراگر وہ دیت دینے سےانکار کرلے تو ان ورثاء کو اپنے حق کی وصول یابی کے لیے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق بھی حاصل ہوگا، نیز بچے کے اولیاء یعنی مقتول کے والد وغیرہ پر ان کے حق کی وصول یابی کی خاطر کوشش بھی لازم ہے، جبکہ سوال میں ذکر کردہ رقم اگر واقعۃ مقتول بیٹے کو چھوڑ کر دیگر زخمی بیٹوں کے علاج معالجہ اور دکانوں کے نقصان کی مد میں لی گئ ہو تو اس رقم میں مرحوم کی بیوہ اور بچے کا کوئی حصہ نہیں اس لیے اسے اس مطالبہ سے احتراز چاہئے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی کی صورت میں(خواہ طلاق کی وجہ سے ہو یا وفات وغیرہ کی وجہ سے) بچے کی عمر سات سال ہونے تک اس کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ وہ اس دوران بچےکے کسی غیر ذی رحم محرم سے شادی نہ کرلے اور اس دوران ان کے پرورش پر آنے والے اخراجات بچوں کے حق میراث سے ادا کئے جائیں گے، اور اس عمر کو پہنچ جانے کے بعد اگر دادا بچے کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتا ہے ، البتہ اگر بچے کی والدہ بچے کی عمر سات سال ہونے سے پہلے ہی بچےكے كسى غير ذي رحم محرم سے نكاح كرلے تو اس صورت ميں يہ حقِ پرورش نانى اور نانى نہ ہونے كى صورت ميں دادى كى طرف منتقل ہوجاتا ہے، پھر ترتيب وار خالاؤں،پھوپھيوں كو ملتا ہے ، جبکہ سائل کے مرحوم بیٹے نے کوئی ترکہ نہیں چھوڑا ہے تو بچے کے بالغ(کام کاج کے قابل ) ہونے تک ان کا نان نفقہ اور اخراجات ماں اور دادا کے ذمہ ایک تہائی دو تہائی کے تناسب سے مشترکہ طور پر لازم ہونگے ایک تہائی ماں جبکہ دو تہائی دادا ادا کرےگا۔
کمافی الھندیۃِ:أما العمد فما تعمد ضربه بسلاح أو ما يجري مجرى السلاح في تفريق الأجزاء كمحدد الخشب والحجر وليطة القصب والنار كذا في الكافي وموجب ذلك المأثم والقود إلا أن يعفو الأولياء، أو يصالحوا، ولا كفارة فيه عندنا كذا في الهداية ومن حكمه حرمان الميراث ووجوب المال به عند التراضي أو عند تعذر إيجاب القصاص للشبهة كذا في شرح المبسوط الخ(الباب الأول تعريف الجناية وأنواعها وأحكامها،ج:6،ص:2،مط:مکتبہ ماجدیہ)
وفیھا ایضاً:إن صالح أحد الشركاء من نصيبه على عوض، أو عفا سقط حق الباقين عن القصاص وكان لهم نصيبهم من الدية، ولا يجب للعافي شيء من المال،الخ(الباب السادس في الصلح والعفو والشهادة فيه،ج:6،ص:21،مط:مکتبہ ماجدیہ)
وفیھا ایضاً: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا، فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق. وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها هكذا في النهر الفائق. (الی قولہ)وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير.( الی قولہ ) والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأولالی (الی قولہ)وبعدما استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى يقدم الأقرب فالأقرب كذا في فتاوى قاضي خان. ويمسكه هؤلاء إن كان غلاما إلى أن يدرك فبعد ذلك ينظر إن كان قد اجتمع رأيه وهو مأمون على نفسه يخلى سبيله فيذهب حيث شاء، وإن كان غير مأمون على نفسه فالأب يضمه إلى نفسه ويوليه ولا نفقة عليه إلا إذا تطوع كذا في شرح الطحاوي.اھ(الباب السادس عشر في الحضانة،ج:1،ص:541/542،مط:ماجدیہ)
وفیھا ایضاً:وإنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي (الی قولہ)ولو تزوجت الأم بزوج آخر وتمسك الصغير معها أو الأم في بيت الراب فللأب أن يأخذها منهاالخ(الباب،السادس،عشرفي،الحضانة،ج:1،ص:541،ط:ماجدیہ)
وفیھاایضاً:وبعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب وتدفع إلى الأم حتى تنفق على الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقة تدفع إلى غيرها لينفق على الولد الخ(الفصل الرابع فی نفقۃ الاولاد،ج:1،ص:561،مط:ماجدیہ)
وفی الھدایۃ:ومن سمى مهرا عشرة فما زاد فعليه المسمى إن دخل بها أو مات عنها" لأنه بالدخول يتحقق تسليم المبدل وبه يتأكد البدل وبالموت ينتهي النكاح نهايته والشيء بانتهائه يتقرر ويتأكد فيتقرر بجميع مواجبه الخ(باب المھر،ج:2،ص:324،مط مکتبہ رحمانیہ)
وفى المحيط البرهاني:فإن مات الأب فالنفقة على الجد؛ لأنه قائم مقام الأب فإن كان للصغير أم وجد فالنفقة على الأم والجد على قدر ميراثهما أثلاثاً بخلاف الأب في ظاهر الرواية .(ج:3،ص:582،ط:دارالکتب العلمیة)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0