السلام علیکم جناب! میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ میری والدہ کی وراثت کے بارے میں اسلامی نقطہ نگاہ اور شریعت کی رو سے کیا حکم ہے۔ ہم تین بھائی ہیں، تو مجھے بتائیں کہ جو میری والدہ نے وراثت، زمین یا جائیداد چھوڑی ہے، وہ ہم تینوں بھائیوں میں تقسیم ہوگی یا پھر میری والدہ کے بہن بھائیوں کی طرف بھی جائے گی؟ مجھے کسی نے بتایا ہے کہ آپ مکمل طور پر والدہ کی وراثت کے حصہ دار نہیں ہیں، بلکہ آپ کی والدہ کے جو بھائی ہیں (میری والدہ کے ایک سگے اور نو سوتیلے بھائی ہیں، اور اسی طرح ایک سگی بہن اور دو سوتیلی بہنیں ہیں) ان کا بھی حصہ ہے۔ تو مجھے اس کے بارے میں گائیڈ کریں۔
واضح ہو کہ اگر کسی مرحوم یا مر حومہ کی نرینہ اولاد موجود ہو تو اسی صورت میں اس کے بہن بھائی وا رث نہیں بنتے،چنانچہ والدہ کا ترکہ سائل اور اس کے بھائیوں میں ہی تقسیم ہوگا ،لہذا مذکور شخص کا یہ کہنا کہ سائل کی والدہ کے بہن بھائی بھی وارث اور حصہ دار ہونگے ،احکامِ شرعیہ سے نا واقفیت پر مبنی ہے اس پر لازم ہے کہ بغیر علم شرعی مسائل میں پڑنے سے احتراز کرے۔
کما قال اللہ تعالیٰ : یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ۔(سورۃ النساء،آیت نمبر:11)
فی السراجی فی المیراث: وبنو الأعيانِ والعَلات كلهم يسقطون بالابن وابن الابن،وإن سفل، وبالأب بالاتفاق، (باب معرفۃ الفروض و مستحقیھا،ص:28،ط:بشریٰ)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0