کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمیں کافی ٹائم پہلے سے قرآن مجید کے شہید اوراق مل رہے ہیں، تو ان کے بارے میں ہمیں وضاحت دیں کہ ان کی حفاظت کے پیش نظر ان کا بہترین حل کیا ہے کہ ان کو کیسے محفوظ اور کہاں محفوظ رکھا جائے ، یا ان کو دفنایا جائے ، ہم ان کو قبرستان میں دفنا سکتے ہیں یا نہیں؟ یا محلے میں کوئی پلاٹ وقف کر کے اس جگہ کو ان اوراق کےلئے مختص کیا جائے تو کیا ایسا کرنا درست ہوگا یا نہیں ؟
واضح ہو کہ مقدس اوراق کی حفاظت کا اصل طریقہ یہ ہے کہ ان کو پاک کپڑے میں لپیٹ کے قبرستان میں دفن کر دیا جائے ، لہٰذا صورت مسئولہ میں قرآن مجید کے شہید اوراق مذکورہ طریقے پر قبرستان میں یا کسی وقف پلاٹ میں دفنا سکتے ہیں ۔ اور ایسا ہی کرنا چاہیے۔
کما فی الدر المختار: المصحف إذا صار بحال لا یقرأ فیہ یدفن کالمسلم۔ الخ (ج۱، ص۱۷۷)
وفی الهندية: المصحف اذا صار خلقا لا یقرأ منه ویخاف ان یضیع یجعل فی خرقة طاہرة ویدفن (الی قوله) المصحف اذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا یحرق بالنار اه (ج۵، ص۳۲۳)
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 1