سوال یہ ہے کہ میرے بڑے بھائی کا انتقال 2004 میں ہوا ہے۔میرے والد صاحب کا انتقال 2025 میں ہوا ہے، کیا میرے بھتیجے ،بھتجیاں میرے والد مرحوم کی ان کی جائیداد میں حصہ دار ہیں یا نہیں؟
سائل کے بھائی مرحوم کا انتقال چونکہ سائل کے والد مرحوم سے پہلے ہو چکا تھا ،اس لئے بیٹوں کی موجودگی میں پوتے اور پوتیاں اپنے والد مرحوم کے توسط سے دادا مرحوم کے ترکے میں شرعاً حصہ دار نہیں ہونگے ، چنانچہ سائل کے بھتیجے اوربھتیجیوں کودادا مرحوم کے ترکے میں شرعاً حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل نہ ہوگا ،البتہ اگر باقی ورثاء اپنی مرضی و خوشی سے ان کو کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، اور یہ افضل ہے، لیکن ایسا کرنا ان کے ذمہ لازم نہیں۔
کما فی تکملة فتح الملهم: وقد ذکر الإمام أبوبکر جصاص الرازي رحمه اللّٰه في أحکام القرآن، والعلامة العیني في عمدة القاري: الإجماع علی أن الحفید لایرث مع الابن‘‘. ( مسئلة میراث الحفید عند وجود الإبن ج:2، ص: 18، مط: مکتبة دارالعلوم کراتشی)۔
و فی ردالمحتار:"وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه".( كتاب الفرائض،ص:6، ص: 756، مط:سعيد)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0