ہماری اکلوتی بہن، جو شادی شدہ ہے، اسے مکان کی ضرورت پیش آئی تھی، بہن نے والد مرحوم سے کہا تھا کہ میری وراثت کے حصے میں سے جو حصہ ہے، اس میں مجھے مکان خرید کر دیں۔ والد مرحوم نے بہن کو حصے کی نیت سے مکان خرید کر دیا اور اس کا قبضہ بھی بہن کو دے دیا تھا، اور کاغذات بھی اس کے نام کر دیے تھے،اب ہم وراثت تقسیم کر رہے ہیں، تو کیا والد مرحوم کی بقیہ وراثت میں سے بہن کا حصہ نکلے گا؟ اگر نکلے تو کیا بہن کے مکان کی مالیت اس کے باقیہ حصے سے کٹوتی ہوگی۔
مزید وضاحت:والد مرحوم کے انتقال کے وقت ورثاء میں بیوہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی موجود تھی۔ بعد میں بیوہ نے دوسرا نکاح کر لیا ہے۔
سائل کےوالدمرحوم نے اپنی زندگی میں جب اپنی بیٹی کو اس کے مطالبے کی وجہ سےمذکور گھرباضابطہ مالکانہ قبضہ و تصرف کےساتھ دے دیا ، تو بیٹی اس گھر کی مالکہ بن چکی ہے، اور یہ تقسیمِ وراثت نہیں بلکہ والد کی طرف سے گفٹ کہلائے گا ،اور اس گفٹ کی وجہ سے سائل کی بہن اپنے شرعی حصۂ میراث سے محروم بھی نہ ہوگی، اور نہ ہی دیگر ورثاء کو اس کےحصے میں سےکٹوتی جائز ہوگی، بلکہ دیگر ورثاء کی طرح وہ بھی اپنے شرعی حصہ کی پوری پوری حقدار ہوگی ،تاہم جب مذکورہ بہن والد مرحوم سے اس کی زندگی میں وراثت کے نام پر مناسب حصہ لے چکی ہے، تو اسے چاہیے کہ والد مرحوم کے ترکہ میں سے تھوڑا بہت لے کر بقیہ حصہ باقی ورثاء کے لئے چھوڑ دے، تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
اس کے بعد وا ضح ہو کہ والدمرحوم کا ترکہ ان کے موجود ورثاء میں اصول ِمیراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد، سونا چاندی، زیورات، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم کے ذمہ کچھ قرض یابیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل آتھ(8) حصے بنائےجائیں، جن میں سے بیوہ کو ایک(1)حصہ ،اوربیٹوں میں سے ہر ایک کو دو (2) حصے ، اور بیٹی کو ایک(1) حصہ دیاجائے جیسا کہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہو رہا ہے ،مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دئیے گئے ہیں !
كما في الدرالمختار: (وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك) فلا تصح هبة صغير ورقيق (الى قوله) (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح (وركنها) هو (الإيجاب والقبول) كما سيجيء (وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) اھ (كتاب الهبة، ج: ٥، ص: ٦٨٧،ط:سعيد)
وفي دررالحكام: لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره (انظر المادة 1192) (منافع الدقائق، والأشباه اھ(الباب الرابع في بيان المسائل التي تتعلق بمدة الإجارة،ج:١،ص:٥٩٩،ط:دارالجيل)
وفيها ايضاََ: كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير.(الكتاب العاشر الشركات،الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأملاك، ج: ٣، ص: ٢٠١، رقم المادة : ١١٩٢، مط: دار الجيل)
وفي الهندية: وأما النساء فالأولى البنت (الى قوله) وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين اھ (الباب الثاني في ذوي الفروض، ج: ٦، ص: ٤٤٨، ط: ماجدية)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0