عشر و خراج

نہری اور بارانی زمین میں عشر لازم ہوگا یا نصف عشر ؟

فتوی نمبر :
98041
| تاریخ :
2026-08-01
عبادات / زکوۃ و صدقات / عشر و خراج

نہری اور بارانی زمین میں عشر لازم ہوگا یا نصف عشر ؟

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ

اگر کسی شخص کی زمین کی پیداوار میں سے کچھ گندم بارانی ہو یعنی بارش یا نہری پانی سے بغیر کسی خرچ کے سیراب ہوئی ہو، اور کچھ گندم سقی ہو یعنی ٹیوب ویل یا کنویں کے پانی سے اخراجات کے ساتھ سیراب ہوئی ہو۔ اور کٹائی کے بعد دونوں قسمیں اس طرح آپس میں مخلوط ہو جائیں کہ اب ان کی مقدار الگ الگ معلوم کرنا ممکن نہ رہے۔

تو ایسی صورت میں شرعاً کل مخلوط پیداوار پر عشر کامل یعنی 10 فیصد واجب ہوگا یا نصف عشر یعنی 5 فیصد؟

براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی معتبر کتب سے صریح حوالہ جات کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کو سابقہ تحریر کی بنیاد پر اندازہ لگانے میں آسانی ہو تو غالب انداز ے اور گمان کے مطابق عشری زمین کی فصل سے عشر اور نصفِ عشر والی زمین کی فصل سے نصف عشر ادا کرنے سے اس کا فریضہ ادا ہو جائے گا۔ ورنہ تجربہ کار کاشت کاروں کے اندازے کے مطابق عمل کرتے ہوئے ہر ہر زمین کا عشر ادا کرے، اور اگر احتیاطاً کچھ زیادہ ادا کر دے تو بہتر ہو گا۔ جبکہ بارانی زمین اور ٹیوب ویل و غیرہ کے ذریعے سیراب کی جانے والی زمینوں کی پیداوار آپس میں ملانے کی وجہ سےاس پورے پیداوار پر عشر ( 10 فیصد )یا نصف عشر ( 5 فیصد) لازم نہ ہو گا بلکہ ہر پیداوار کا وظیفہ پیداواری زمین کے مطابق لازم ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدرالمختار: (و) تجب في (مسقي سماء) أي مطر (وسيح) كنهر (بلا شرط نصاب) راجع للكل (الی قولہ) (و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة الخ (باب العشر کتاب الزکاۃ،ج:2،ص:326،ط:سعید)
وفی ردالمحتار: (قوله: لكثرة المؤنة) علة لوجوب نصف العشر فيما ذكر (قوله: وقواعدنا لا تأباه) كذا نقله الباقاني في شرح الملتقى عن شيخه البهنسي؛ لأن العلة في العدول عن العشر إلى نصفه في مستقى غرب ودالية هي زيادة الكلفة كما علمت وهي موجودة في شراء الماء ولعلهم لم يذكروا ذلك؛ لأن المعتمد عندنا أن شراء الشرب لا يصح وقيل إن تعارفوه صح وهل يقال عدم شرائه يوجب عدم اعتباره أم لا تأمل نعم لو كان محرزا بإناء فإنه يملك فلو اشترى ماء بالقرب أو في حوض ينبغي أن يقال: بنصف العشر؛ لأن كلفته ربما تزيد على السقي بغرب أو دالية الخ (باب العشر،ج:2،ص:328،ط: سعید)
وفی الھندیۃ: ثم ماء العشر ماء البئر حفرت في أرض العشر، وماء العين التي تظهر في أرض العشر، وكذلك ماء السماء، وماء البحار العظام عشري كذا في المحيط.الخ (الباب سادس فی زکاۃ الزرع والثمار کتاب الزکاۃ کتاب الزکاۃ،ج:2،ص:186،ط:ماجدیہ)
و فی البدائع:فإن لم يكن بحضرته أحد جاز له التحري؛ لأن التكليف بحسب الوسع والإمكان، وليس في وسعه إلا التحري فتجوز له الصلاة بالتحري لقوله تعالى: {فأينما تولوا فثم وجه الله} [البقرة: 115] .
وروي أن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم تحروا عند الاشتباه وصلوا ولم ينكر عليهم النبي صلى الله عليه وسلم فدل على الجوازاھ(کتاب الصلاۃ،ج:1،ص:18،ط:ماجدیۃ)
و فی النہایۃ:القاعدة: التكليف بحسب الوسع. وفي لفظ: التكليف ثابت بقدر الوسع.معنى هذه القاعدة ومدلولها: التكليف لغة: من الفعل كلَّف يكلِّف وهو الأمر بما يشق، وتكلف الشيء تجشمه وتحمله بمشقة، والتكليف: تحمل المشاق. والمعلوم من الشرع أن التكليف بحسب الوسع أي طاقة الإنسان وقدرته فالله عز وجل لم يكلفنا بما يشق علينا ويعسر علينا فعله، قال سبحانه وتعالى {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} الآية 286 من سورة البقرة. والأدلة على ذلك كثيرة جدًّا.من أمثلة هذه القاعدة ومسائلها: التكاليف الشرعية كلها من صلاة وصيام وزكاة وحج وجهاد وغيرها إنما يكون فعلها والأمر بها بالقدرة الميسرة للعبد، وإذا شق أمر على المكلف ولم يمكنه فعله بسبب مرض أو سفر أو غير ذلك من الأعذار انتقل الأمر إلى القدرة الممكنة والرخصة فمن لم يجد الماء أو لم يستطع استعماله لبرد أو مرض تيمم.انظر: موسوعة القواعد الفقهية (2/ 459)اھ.(فصل فی المحرمات،ج:7،ص:48،ط:مرکز الدراسات العلمیۃ بجامعۃ ام القریٰ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98041کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ٹھیکہ پر لی گئی زمین کی فصل میں عشر کس حساب سے دیاجائیگا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   عشر و خراج 0
  • شمسی توانائی کے ٹیوب ویل سے حاصل ہونے والی کاشت پر عشر

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   عشر و خراج 0
  • بٹہ پر لی گئی زمین پر عشرکے احکام

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   عشر و خراج 0
  • زمینی پیداوارپر عشراورنصف عشرکی تفصیل

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   عشر و خراج 0
  • کیا مقروض آدمی عشر ادا کرےگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   عشر و خراج 0
  • کھٹائی سے قبل گنا فروخت کرنے صورت عشر کس حساب دیناہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   عشر و خراج 0
  • ٹیوب ویل کے ذریعہ سیراب شدہ زمین کی پیداوارپر عشرہے یا نصف عشر؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   عشر و خراج 1
  • عشر کے پیسوں سے اسکول میں پانی کا انتظام کرنا

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • مزارعت (بٹھائی پر زمین دینے) کی صورت میں عشر کے احکامات

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • نہری زمین میں عشر و نصف عشر کا حکم

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • عشر کی رقم چچاز زاد اور پھوپھی کو دینا - بیت الخلاء میں وضو کرتے وقت دعائیں پڑھنا

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • چودہ من نہری زمین کی گندم پر عشر کا حکم اور واجب مقدار

    یونیکوڈ   عشر و خراج 1
  • ٹھیکہ پر لی ہوئی زمین میں عشر کا حکم

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • نہری زمین کو کرایہ پر دیا جائے تو اس کے عشر کا کیا حکم ہے ؟

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • زمین زراعت پر دینے کی صورت میں عشر کا حکم

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • زمین کے اردگرد اگر چار دیواری ہو تو اس میں عشر لازم ہوگا؟

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • جانوروں کے لئے اگائے ہوئے چارہ پر عشر کا حکم

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • عشر کی رقم سے جنازہ گاہ تعمیر کرنا

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • مغصوبہ زمین کی پیداوار میں عشر کا حکم

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • سولر سے سیراب کی جانے والی زمین میں عشر لازم ہوگا یا نصف عشر ؟

    یونیکوڈ   انگلش   عشر و خراج 0
  • زمین کا عشر خرچہ نکال کر دیا جائے یا پہلے؟

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
  • نہری اور بارانی زمین میں عشر لازم ہوگا یا نصف عشر ؟

    یونیکوڈ   عشر و خراج 0
Related Topics متعلقه موضوعات