السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
محترم مفتی صاحب!میں ہندوستان کے حیدرآباد سے ہوں۔ مجھے وراثت کے ایک مسئلے میں آپ سے شرعی رہنمائی اور فتویٰ درکار ہے۔میرے والد کا انتقال 13 مئی 2021 کو ہوا اور میری والدہ کا انتقال 18 مئی 2022 کو ہوا۔ہم تین بہنیں تھیں۔ میری بڑی بہن زندہ ہیں۔ میری دوسری بہن کا انتقال 19 مئی 2010 کو ہو گیا تھا، یعنی میرے والد اور والدہ کے انتقال سے تقریباً 10 سال پہلے۔ میں سب سے چھوٹی بیٹی ہوں۔اب میری مرحوم بہن کی دو بیٹیوں نے ہم پر کورٹ میں کیس داخل کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں اپنے نانا اور نانی کی وراثت میں حصہ ملنا چاہیے۔ہمارے وکیل کا کہنا ہے کہ انڈین کورٹ انہیں حصہ دلوا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے مجھے شرعی حکم کی واضح معلومات درکار ہیں۔کہ کیا حنفی فقہ کے مطابق، اگر بیٹی اپنے والدین سے پہلے انتقال کر جائے، تو اس کی اولاد (نواسیاں) اپنے نانا یا نانی کی وراثت میں وارث بنتی ہیں؟
اگر شرعاً وہ وارث نہیں بنتیں، تو قرآن، حدیث اور حنفی فقہ کی روشنی میں اس کی دلیل کیا ہے؟
اگر کورٹ انہیں قانونی طور پر کچھ دیدے، تو شرعاً ہماری ذمہ داری کیا ہوگی؟
کیا آپ اس مسئلے پر واضح تحریری فتویٰ عنایت فرما سکتے ہیں، تاکہ ضرورت پڑنے پر میں اسے کورٹ یا اپنے وکیل کے سامنے پیش کر سکوں؟اگر آپ مناسب سمجھیں، تو گزارش ہے کہ اپنے فتوے میں اتنی وضاحت بھی فرما دیں کہ اگر مرحوم بہن کی بیٹیاں اس فتوے کو پڑھیں، تو انہیں شرعی حکم کی صحیح معلومات ہو جائے اور اگر واقعی شرعاً ان کا وراثت میں حصہ نہیں بنتا، تو وہ اس حقیقت کو قبول کرتے ہوئے اپنا دعویٰ واپس لینے یا صلح کرنے پر غور کریں۔ میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، بلکہ شرعی حکم واضح ہونا اور بے جا تنازع کا خاتمہ ہے۔ایک اور ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ میرا کورٹ کا پہلا پیشی (first hearing) 6 اگست 2026 کو مقرر ہے۔ میں پہلی مرتبہ کورٹ میں حاضر ہو رہی ہوں اور اس لیے مجھے شرعی رہنمائی کی سخت ضرورت ہے۔ اگر ممکن ہو تو براہِ کرم میرے سوال کا جواب اور فتویٰ جلد سے جلد عنایت فرما دیں، تاکہ میں کورٹ میں پیش ہونے سے پہلے شرعی حکم کی روشنی میں اپنی رہنمائی حاصل کر سکوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس خدمت کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ جس بیٹی کا انتقال والدین کی زندگی میں ہو جائے تو دیگر قریبی ورثا (بیٹا، بیٹی) کی موجودگی میں ان کی اولاد کا اپنی ماں کے توسط سے نانا، نانی کے ترکے میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے والدین کی زندگی میں جس بیٹی کا انتقال ہو گیا تھا، اس بیٹی کی اولاد کا حقیقی بیٹیوں (سائلہ اور اس کی بڑی بہن) کی موجودگی میں نانا، نانی کے ترکے میں شرعاً کوئی حصہ نہیں، چنانچہ سائلہ کے بھانجیوں کے لیے نانا، نانی کی وراثت میں حصے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں اور کورٹ کے غیر شرعی فیصلے سے ان کے لیے ترکے میں سے کچھ لینا حلال نہ ہوگا لہذا ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے مذکور ناحق اور غیر شرعی مطالبہ سے دستبردار ہو جائیں۔ البتہ سائلہ اور اس کی بڑی بہن اگر اپنی مرضی و خوشی سے اپنے شرعی حصوں میں سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، یہ باعثِ اجر و ثواب بھی ہے مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
کما في التفسير المظهري:أمرهم بالتقوى الذي هو غاية الخشيه بعد ما أمرهم بها مراعاة للمبدا والمنتهى وقال الكلبي هذا امر للاوصياء والأولياء بان يخشوا الله ويتقوه فى امر اليتامى ويحسنوا إليهم ويفعلوا بهم ما يحبون ان يفعل بذراريهم الضعاف.اھ(سورة النساء،آية:10،ج:2،ص:21،ط:مکتبۃ الرشدیۃ)
و فی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: « من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين ( باب تحریم الظلم،ج:5،ص:57،ط:دار الطباعۃ العامرۃ)
و فی رد المحتار : وشروطہ : ثلاثۃ : موت مورث حقیقیۃ ، او حکما کمفقود او تقدیراً کجنین فیہ غیرہ ووجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ او تقدیراً الخ (کتاب الفرائض،ج:6،ص:758،ط: سعید)۔
و فی الہندیہ:وأما حجب الحرمان فنقول: ستة لا يحجبون أصلا، الأب والابن والزوج والأم والبنت والزوجة ومن عدا هؤلاء فالأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن والأخ لأبوين يحجب الإخوة لأب ومن يدلي بشخص لا يرث معه إلا أولاد الأم.اھ(كتاب الفرائض ،الباب الرابع في الحجب ،ج :6،ص: 452،ط:ماجدیۃ)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0