احکام وراثت

یتیم نواسہ اور نواسیوں کا نانا اور نانی کے ترکہ سے حصہ مانگنا

فتوی نمبر :
98132
| تاریخ :
2026-08-03
معاملات / ترکات / احکام وراثت

یتیم نواسہ اور نواسیوں کا نانا اور نانی کے ترکہ سے حصہ مانگنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
محترم مفتی صاحب!میں ہندوستان کے حیدرآباد سے ہوں۔ مجھے وراثت کے ایک مسئلے میں آپ سے شرعی رہنمائی اور فتویٰ درکار ہے۔میرے والد کا انتقال 13 مئی 2021 کو ہوا اور میری والدہ کا انتقال 18 مئی 2022 کو ہوا۔ہم تین بہنیں تھیں۔ میری بڑی بہن زندہ ہیں۔ میری دوسری بہن کا انتقال 19 مئی 2010 کو ہو گیا تھا، یعنی میرے والد اور والدہ کے انتقال سے تقریباً 10 سال پہلے۔ میں سب سے چھوٹی بیٹی ہوں۔اب میری مرحوم بہن کی دو بیٹیوں نے ہم پر کورٹ میں کیس داخل کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں اپنے نانا اور نانی کی وراثت میں حصہ ملنا چاہیے۔ہمارے وکیل کا کہنا ہے کہ انڈین کورٹ انہیں حصہ دلوا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے مجھے شرعی حکم کی واضح معلومات درکار ہیں۔کہ کیا حنفی فقہ کے مطابق، اگر بیٹی اپنے والدین سے پہلے انتقال کر جائے، تو اس کی اولاد (نواسیاں) اپنے نانا یا نانی کی وراثت میں وارث بنتی ہیں؟
اگر شرعاً وہ وارث نہیں بنتیں، تو قرآن، حدیث اور حنفی فقہ کی روشنی میں اس کی دلیل کیا ہے؟
اگر کورٹ انہیں قانونی طور پر کچھ دیدے، تو شرعاً ہماری ذمہ داری کیا ہوگی؟
کیا آپ اس مسئلے پر واضح تحریری فتویٰ عنایت فرما سکتے ہیں، تاکہ ضرورت پڑنے پر میں اسے کورٹ یا اپنے وکیل کے سامنے پیش کر سکوں؟اگر آپ مناسب سمجھیں، تو گزارش ہے کہ اپنے فتوے میں اتنی وضاحت بھی فرما دیں کہ اگر مرحوم بہن کی بیٹیاں اس فتوے کو پڑھیں، تو انہیں شرعی حکم کی صحیح معلومات ہو جائے اور اگر واقعی شرعاً ان کا وراثت میں حصہ نہیں بنتا، تو وہ اس حقیقت کو قبول کرتے ہوئے اپنا دعویٰ واپس لینے یا صلح کرنے پر غور کریں۔ میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، بلکہ شرعی حکم واضح ہونا اور بے جا تنازع کا خاتمہ ہے۔ایک اور ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ میرا کورٹ کا پہلا پیشی (first hearing) 6 اگست 2026 کو مقرر ہے۔ میں پہلی مرتبہ کورٹ میں حاضر ہو رہی ہوں اور اس لیے مجھے شرعی رہنمائی کی سخت ضرورت ہے۔ اگر ممکن ہو تو براہِ کرم میرے سوال کا جواب اور فتویٰ جلد سے جلد عنایت فرما دیں، تاکہ میں کورٹ میں پیش ہونے سے پہلے شرعی حکم کی روشنی میں اپنی رہنمائی حاصل کر سکوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس خدمت کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جس بیٹی کا انتقال والدین کی زندگی میں ہو جائے تو دیگر قریبی ورثا (بیٹا، بیٹی) کی موجودگی میں ان کی اولاد کا اپنی ماں کے توسط سے نانا، نانی کے ترکے میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے والدین کی زندگی میں جس بیٹی کا انتقال ہو گیا تھا، اس بیٹی کی اولاد کا حقیقی بیٹیوں (سائلہ اور اس کی بڑی بہن) کی موجودگی میں نانا، نانی کے ترکے میں شرعاً کوئی حصہ نہیں، چنانچہ سائلہ کے بھانجیوں کے لیے نانا، نانی کی وراثت میں حصے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں اور کورٹ کے غیر شرعی فیصلے سے ان کے لیے ترکے میں سے کچھ لینا حلال نہ ہوگا لہذا ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے مذکور ناحق اور غیر شرعی مطالبہ سے دستبردار ہو جائیں۔ البتہ سائلہ اور اس کی بڑی بہن اگر اپنی مرضی و خوشی سے اپنے شرعی حصوں میں سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، یہ باعثِ اجر و ثواب بھی ہے مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في التفسير المظهري:أمرهم بالتقوى الذي هو غاية الخشيه بعد ما أمرهم بها مراعاة للمبدا والمنتهى وقال الكلبي هذا امر للاوصياء والأولياء بان يخشوا الله ويتقوه فى امر اليتامى ويحسنوا إليهم ويفعلوا بهم ما يحبون ان يفعل بذراريهم الضعاف.اھ(سورة النساء،آية:10،ج:2،ص:21،ط:مکتبۃ الرشدیۃ)
و فی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: « من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين ( باب تحریم الظلم،ج:5،ص:57،ط:دار الطباعۃ العامرۃ)
و فی رد المحتار : وشروطہ : ثلاثۃ : موت مورث حقیقیۃ ، او حکما کمفقود او تقدیراً کجنین فیہ غیرہ ووجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ او تقدیراً الخ (کتاب الفرائض،ج:6،ص:758،ط: سعید)۔
و فی الہندیہ:وأما حجب الحرمان فنقول: ستة لا يحجبون أصلا، الأب والابن والزوج والأم والبنت والزوجة ومن عدا هؤلاء فالأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن والأخ لأبوين يحجب الإخوة لأب ومن يدلي بشخص لا يرث معه إلا أولاد الأم.اھ(كتاب الفرائض ،الباب الرابع في الحجب ،ج :6،ص: 452،ط:ماجدیۃ)


واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98132کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات