میرے والد کی وفات کو تقریباً 5 سال ہونے کو ہیں ۔ اب میرے بھائی گھر بیچ رہے ہیں ۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد بھائیوں نے اس گھر پر گیس اور بجلی کے کافی بلز چڑھا دیے، نیز گھر کو کرائے پر دے کر لاکھوں روپے کا بڑا ایڈوانس بھی وصول کر لیا۔ ان لاکھوں روپوں میں سے صرف 3 لاکھ روپے گھر کی مرمت یا دیکھ بھال پر خرچ کیے گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ گھر بیچتے وقت اس خرچے یا بل کی کٹوتی ماں اور بہنوں کے حصے سے بھی ہوگی یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم کے انتقال کے بعد مذکور ترکہ کے گھر میں جو لوگ رہائش پذیر رہے اور انہوں نے گیس و بجلی استعمال کی ہے، تو گیس و بجلی کے واجب الادا بلوں کی ادائیگی بھی انہیں پر لازم ہے ۔ اسی طرح گھر کرایا پر دیتے وقت جو پگڑی یا ایڈوانس لیا گیا ہے، وہ بھی لینے والوں کے ذمہ واجب الادا ہے اور اگر مذکور گھر کی قیمت سے حاصل ہونے والی رقم سے ادائیگی کی جائے گی تو بجلی گیس و غیرہ کی مد میں واجب الادا رقم کی کٹوتی صرف ان ورثا کے حصے سے کی جائے گی کہ جنہوں نے گیس اور بجلی کا استعمال کیا یا ایڈوانس لے کر خرچ کیا ہے۔
کما في الدر المختار: (يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) (إلى قوله) (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير) (إلى قوله) (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) اھ(کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 759، م: سعید)
وفی درر الحكام : (إذا احتاج الملك المشترك للتعمير والترميم فيعمره أصحابه بالاشتراك بنسبة حصصهم)....الخلاصة: إن نفقات الأموال المشتركة تعود على الشركاء بنسبة حصصهم في تلك الأموال حيث إن الغرم بالغنم ۔اھ (الكتاب العاشر، الشركات، الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة، الفصل الأول في بيان تعمير الأموال المشتركة وبعض مصروفاتها الأخرى، المادة 1308، ج:3، ص: 310، ط: دار الجيل)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0