احکام وراثت

والدہ کا اپنا مملوکہ مکان بیچ کر بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم کرنا

فتوی نمبر :
98524
| تاریخ :
2026-08-17
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والدہ کا اپنا مملوکہ مکان بیچ کر بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم سات (7) بھائی اور چار(4) بہنیں ہیں، والد صاحب کا نتقال 2000 میں ہوا تھا، اور والدہ صاحبہ حیات ہے، میری ایک بہن کا ڈیڑھ سال قبل انتقال ہوا، والدہ نے گھر فروخت کردیا ہے، آپ یہ بتائیں ، جس بہن کا انتقال ہوا ، ان کی 2 بیٹاں اور شوہر ، سات بھائی تین بہنیں ، والد ہ موجود ہیں ، جس میں سے ایک بیٹی کا بھی انتقال ہوگیا ہے، لہذا ایک بیٹی ہے اس کا حصہ بنتاہے کہ نہیں؟ اگر بہن نے مرنے سے پہلے وصیت کی کہ مرنے کے بعد میرا حصہ بیٹی کو دینا ، یہ وصیت صحیح ہے یا نہیں؟ براہ مہربانی تحریری رہنمائی کریں، بہن کی جس بیٹی کا انتقال ہوا ہے ، اس کی بھی 2 بیٹیاں ہیں ،شکریہ۔
(نوٹ) سائل سے فون پر بات کرنے سے معلوم ہوا کہ مکان والدہ کی ملکیت تھا ، اور انہوں نے اسے فروخت کر دیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا والدہ کی مرضی ہے کہ وہ جس کو جتنا چاہیں دیں، یا سب میں برابر تقسیم کرنا لازم ہے؟نیز بہن کی جس بیٹی کا انتقال ہوا ہے، وہ بہن سے پہلے ہوا ہے، یعنی ان کی زندگی میں انتقال کرگئی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر مذکور مکان واقعۃً سائل کی والدہ کی ملکیت تھا، اور انہوں نے اپنی مرضی سے اسے فروخت کردیا تھا، تو وہ اس کی فروختگی سے حاصل شدہ رقم اپنی مرضی سےجہاں چاہیں خرچ کرسکتی ہیں، لہذا ان کی اولاد میں سے کسی کو بھی ان سے مذکور رقم کی تقسیم کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہے، البتہ اگر سائل کی والدہ بلا کسی جبر واکراہ کے محض اپنی مرضی وخوشی سے مذکور رقم تقسیم کرنا چاہتی ہوتو ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے اور یہ تقسیم ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ اور گفٹ (Gift) کہلائےگا،جس کا بہتر اور افضل طریقہ یہ ہےکہ وہ ایک محتاط اندازے کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہتی ہو، وہ رکھ کر بقیہ رقم اپنی اولاد بیٹے ،بیٹیوں پوتے پوتیوں یا مرحوم بیٹی کی اولاد وغیرہ میں سے جس کو دینا چاہیں اور جتنا دینا چاہیں دے سکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ، البتہ اولاد میں سے بعضوں کو دینا اور بعضوں کو بالکل محروم رکھنا درست نہیں ، بلکہ سب کو برابر برابر دینا چاہیے، تاہم اگر کسی بیٹے /بیٹی کو اس کی محتاجگی خدمت گزاری یا دینداری وغیرہ کی بناء پر کچھ مزید دینا چاہےتو دے سکتی ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

و قال اللہ تعالی: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ الآیۃ (آیۃ:90،سورۃ النحل)۔
و فی بدائع الصنائع: وینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ وتعالی "إن االلہ یأمر بالعدل والإحسان (إلی قالہ) ولأن فی التسویۃ تألیف القلوب والتفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویہ بینھم أولی ولو نحل بعضاً وحرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی خالص ملکہ لاحق لأحد فیہ الخ (کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط بانواع ،ج:6 ،صـ :127، ط: سعید)
وفی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا الخ(کتاب الھبۃ،ج:6،ص: 691-690 ،ط: سعید)
و في الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار كذا في الظهيرية رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع كذا في فتاوى قاضي خان وإن كان في ولده فاسق لا ينبغي أن يعطيه أكثر من قوته كي لا يصير معينا له في المعصية كذا في خزانة المفتين ولو كان ولده فاسقا وأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه كذا في الخلاصة ولو كان الولد مشتغلا بالعلم لا بالكسب فلا بأس بأن يفضله على غيره كذا في الملتقط اھ (4/ 391)۔
و في خلاصة الفتاوى: ولو اعطي لبعض ولده شيئا دون البعض لزيادة رشده لابأس به وان كانا سواء لا ينبغي ان يفضل اھ (4/400)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله إلا أن يصطلحا) (الی قولہ) أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث،الخ (6/769)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98524کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 4
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات