کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم سات (7) بھائی اور چار(4) بہنیں ہیں، والد صاحب کا نتقال 2000 میں ہوا تھا، اور والدہ صاحبہ حیات ہے، میری ایک بہن کا ڈیڑھ سال قبل انتقال ہوا، والدہ نے گھر فروخت کردیا ہے، آپ یہ بتائیں ، جس بہن کا انتقال ہوا ، ان کی 2 بیٹاں اور شوہر ، سات بھائی تین بہنیں ، والد ہ موجود ہیں ، جس میں سے ایک بیٹی کا بھی انتقال ہوگیا ہے، لہذا ایک بیٹی ہے اس کا حصہ بنتاہے کہ نہیں؟ اگر بہن نے مرنے سے پہلے وصیت کی کہ مرنے کے بعد میرا حصہ بیٹی کو دینا ، یہ وصیت صحیح ہے یا نہیں؟ براہ مہربانی تحریری رہنمائی کریں، بہن کی جس بیٹی کا انتقال ہوا ہے ، اس کی بھی 2 بیٹیاں ہیں ،شکریہ۔
(نوٹ) سائل سے فون پر بات کرنے سے معلوم ہوا کہ مکان والدہ کی ملکیت تھا ، اور انہوں نے اسے فروخت کر دیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا والدہ کی مرضی ہے کہ وہ جس کو جتنا چاہیں دیں، یا سب میں برابر تقسیم کرنا لازم ہے؟نیز بہن کی جس بیٹی کا انتقال ہوا ہے، وہ بہن سے پہلے ہوا ہے، یعنی ان کی زندگی میں انتقال کرگئی ہے۔
صورت مسئولہ میں اگر مذکور مکان واقعۃً سائل کی والدہ کی ملکیت تھا، اور انہوں نے اپنی مرضی سے اسے فروخت کردیا تھا، تو وہ اس کی فروختگی سے حاصل شدہ رقم اپنی مرضی سےجہاں چاہیں خرچ کرسکتی ہیں، لہذا ان کی اولاد میں سے کسی کو بھی ان سے مذکور رقم کی تقسیم کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہے، البتہ اگر سائل کی والدہ بلا کسی جبر واکراہ کے محض اپنی مرضی وخوشی سے مذکور رقم تقسیم کرنا چاہتی ہوتو ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے اور یہ تقسیم ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ اور گفٹ (Gift) کہلائےگا،جس کا بہتر اور افضل طریقہ یہ ہےکہ وہ ایک محتاط اندازے کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہتی ہو، وہ رکھ کر بقیہ رقم اپنی اولاد بیٹے ،بیٹیوں پوتے پوتیوں یا مرحوم بیٹی کی اولاد وغیرہ میں سے جس کو دینا چاہیں اور جتنا دینا چاہیں دے سکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ، البتہ اولاد میں سے بعضوں کو دینا اور بعضوں کو بالکل محروم رکھنا درست نہیں ، بلکہ سب کو برابر برابر دینا چاہیے، تاہم اگر کسی بیٹے /بیٹی کو اس کی محتاجگی خدمت گزاری یا دینداری وغیرہ کی بناء پر کچھ مزید دینا چاہےتو دے سکتی ہیں۔
و قال اللہ تعالی: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ الآیۃ (آیۃ:90،سورۃ النحل)۔
و فی بدائع الصنائع: وینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ وتعالی "إن االلہ یأمر بالعدل والإحسان (إلی قالہ) ولأن فی التسویۃ تألیف القلوب والتفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویہ بینھم أولی ولو نحل بعضاً وحرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی خالص ملکہ لاحق لأحد فیہ الخ (کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط بانواع ،ج:6 ،صـ :127، ط: سعید)
وفی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا الخ(کتاب الھبۃ،ج:6،ص: 691-690 ،ط: سعید)
و في الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار كذا في الظهيرية رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع كذا في فتاوى قاضي خان وإن كان في ولده فاسق لا ينبغي أن يعطيه أكثر من قوته كي لا يصير معينا له في المعصية كذا في خزانة المفتين ولو كان ولده فاسقا وأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه كذا في الخلاصة ولو كان الولد مشتغلا بالعلم لا بالكسب فلا بأس بأن يفضله على غيره كذا في الملتقط اھ (4/ 391)۔
و في خلاصة الفتاوى: ولو اعطي لبعض ولده شيئا دون البعض لزيادة رشده لابأس به وان كانا سواء لا ينبغي ان يفضل اھ (4/400)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله إلا أن يصطلحا) (الی قولہ) أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث،الخ (6/769)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0