کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری ایک بہن حسن آرا کا انتقال 2019 میں ہوگیا تھا ،جس کے ورثاء میں شوہر(محمد ارشد) اور ایک بیٹی(زہرہ فاطمہ ) موجود ہے، جبکہ حسن آرا کے انتقال کے وقت اس کا والد( محمد معین الدین)حیات تھا،جس کا انتقال جون 2022 میں ہوا.اور حسن آرا کی والدہ اللہ کے فضل سے حیات ہیں. جب والدین کی زندگی میں بیٹی (حسن آرا ) کا انتقال ہوگیا تو کیا والدین کی جائیداد میں بہن حسن آرا ..یا.. اس کی بیٹی کا کوئی حصہ ہے. شرعی حکم کیا ہے. تحریر فرما دیجئے. شکریہ.
واضح ہو کہ مرحوم کے جس بیٹے ،بیٹی کا انتقال اس کی زندگی میں ہو جائے اس کی اولاد دیگر قریبی ورثا (بیٹا، بیٹی) کی موجودگی میں مرحوم کے ترکے میں شرعاً حصہ دار نہیں بنتی ، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بہن حسن آراء کا انتقال چونکہ مرحوم والد کی زندگی میں ہو گیا تھا،اس لئے اس بیٹی کی اولاد حقیقی بیٹوں اور بیٹیوں کی موجودگی میں نانا، نانی کے ترکے میں شرعاً حصہ دار نہیں، چنانچہ سائل کی بھانجی کے لیے نانا، نانی کی وراثت میں حصے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں،جس سے احتراز لازم ہے، البتہ مرحوم کے بالغ ورثاء اگر اپنی مرضی و خوشی سے یتیم بھانجے اور بھانجیوں کو صلہ رحمی کے طور پر کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار حاصل ہے،جو یقینا ان کے لئے اجر و ثواب ہوگا،تاہم ایسا کرنا ان پر شرعا لازم نہیں۔
کما فی رد المحتار : وشروطہ : ثلاثۃ : موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديراالخ (کتاب الفرائض،ج:6،ص:758،ط: سعید)۔
و فی الہندیہ:وأما حجب الحرمان فنقول: ستة لا يحجبون أصلا، الأب والابن والزوج والأم والبنت والزوجة ومن عدا هؤلاء فالأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن والأخ لأبوين يحجب الإخوة لأب ومن يدلي بشخص لا يرث معه إلا أولاد الأم.اھ(كتاب الفرائض ،الباب الرابع في الحجب ،ج :6،ص: 452،ط:ماجدیۃ)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0