محلے کی بریلوی کی مسجد سے اعلان ہوا کہ ایک بچے کی نمازِ جنازہ ہے گراونڈ میں، میں جنازہ کے لیے چلا گیا، جنازے میں چند لوگ تھے، جنازے کے بعد دوسرے حضرات دعا مانگنے لگے اور میں واپس چلا گیا، اس کے بعد میرے دل میں بوجھ بن گیا، کیونکہ میرے عمل سے فرقہ بندیت جھلکنے لگی تھی، سوال یہ ہے کیا میرا یہ عمل درست تھا؟ فرقہ بندیت کا تصور زائل کرنے کے لیے اگر میں دعا مانگتا تو کیا میں گناہ گار ہوتا؟
نمازِ جنازہ خود ایک دعا ہے، اس کے بعد مستقلاً دعا کرنا ثابت نہیں، اس لیے سائل کا دعا میں شریک نہ ہونا درست ہوا ہے اور بدعت سے اعراض ہے، اس لیے اس کو پریشان نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی فریقِ مخالف سے اُلجھنے کی ضرورت ہے۔
ففی خلاصة الفتاویٰ: لایقوم بالدعاء بعد صلاة الجنازة اھ(۱/۲۲۵)
وفی البزازیة: لایقوم بالدعاء بعد صلاة الجنازة لأنه دعا مرة لأن اکثرها دعاء اھ(۴/۸۰)