میرا نام رحیم اللہ ہے، ضلع بنوں تحصیل ڈومیل خیبر پختونخواہ سے تعلق ہے ۔
۱۔ کیا مردے کے جنازے کے بعد کوئی صدقہ دے سکتا ہے؟ غریبوں اور مسکینوں کو اسی جگہ جہاں جنازہ ادا کی، مثلاً کھجور، نقد پیسے دینا ، بنام صدقہ و خیرات لوگوں کو دینا خواہ کوئی بھی ہے، مگر نام خیرات کا ہے، اس مردے کے لۓ تاکہ اللہ اس کی بخشش کریں یا اس کے لۓ عذاب میں معافی فرمادیں ،کیا یہ جائز ہے؟
۲۔ کیا مردے کے تیسرے یا ساتویں دن ہم خیرات کے نام پر کچھ بنا سکتے ہیں ، یعنی کھانا میٹھائی لوگوں کو دے سکتے ہیں ؟ کیا یہ جائز ہے؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
میت کے ایصالِ ثواب کے لۓ شریعتِ مطہرہ نے کوئی دن وقت یا کوئی خاص چیز کی تعیین نہیں کی، بلکہ کسی بھی وقت ایصالِ ثواب کی نیت سے صدقہ و خیرات کیا جا سکتا ہے، جبکہ سوال میں مذکور طریقہ کے مطابق ایصالِ ثواب کرنا اور اس کو لازم سمجھنا اور نہ کرنے والوں کو ملامت کا نشانہ بنانا ( جیسا کہ بعض علاقوں میں ہے) اس طرح درست نہیں، اس لۓ اس طریقہ کے بجائے ہر شخص اپنی سہولت کے مطابق بغیر رسوم کی پابندی کے ، ایصالِ ثواب کرے تو یہ شرعاً جائز اور درست ہو گا اور مردے کی بخشش کا سامان بھی ہو گا ، جبکہ کسی کے مرنے پر مخصوص ایام جیسے ساتواں ، دسواں ، اور چالیسواں وغیرہ کرنے کا قرونِ " ثلاثہ مشہور لہا بالخیر" یعنی دورِ صحابہ و تابعین اور تبعِ تابعین سے کوئی ثبوت نہیں ملتا ، بلکہ بتصریحِ فقہاء یہ بدعتِ قبیحہ ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
قال الله تعالى : ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَ الْمَسَاكِينِ وَ الْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَ فِي الرِّقَابِ وَ الْغَارِمِينَ وَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ ابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَ اللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ (التوبة: 60)۔
و في سنن الترمذي : عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الصدقة لتطفئ غضب الرب و تدفع ميتة السوء اھ (2/ 45)۔
و في حاشية ابن عابدين : و يكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور ، و هي بدعة مستقبحة : و روى الإمام أحمد و ابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت و صنعهم الطعام من النياحة ". اهـ . و في البزازية : و يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع و نقل الطعام إلى القبر في المواسم ، و اتخاذ الدعوة لقراءة القرآن و جمع الصلحاء و القراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص . و الحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره . و فيها من كتاب الاستحسان : و إن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا اهـ و أطال في ذلك في المعراج . و قال : و هذه الأفعال كلها للسمعة و الرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى . اهـ (2/ 240)۔
و فى حاشية الطحطاوي : إن من البدع القبيحة ما يحمل أمام الجنازة من الخبز و الخرفان و يسمون ذلك عشاء القبر فإذا وصلوا إليه ذبحوا ذلك بعد الدفن و فرقوه مع الخبز و ذكر مثله المناوي في شرح الأربعين في حديث من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد قال و يسمون ذلك بالكفارة فإنه بدعة مذمومة اهـ قال ابن أمير حاج و لو تصدق بذلك في البيت سرا لكان عملا صالحا لو سلم من البدعة أعني أن يتخذ ذلك سنة أو عادة لأنه لم يكن من فعل من مضى يعني السلف و الخير كله في اتباعهم اھ (ص: 606)۔