السلام علیکم سوال نمازِ جنازہ کے اجتماعی دعا کے بارے میں صاحب فتاوی فریدیہ کسر الصفوف کے بعد بغیر اجتماع کے جواز کے قائل ہے۔ (فتاوی فریدیہ جلد۳ صفحہ ۲۱۷، ۲۴۳، تا ۲۵۰، ۲۸۰، ۳۱۲) صاحب فتاوی فریدیہ کی تحقیق کے بارے میں کراچی کے علماء دین اور مفتیان کرام کی کیا رائے ہے؟ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
تدفین سے قبل جنازے کے بعد اجتماعی دعا (چاہے کسر الصوف سے پہلے ہو یا بعد ہو) ممنوع ہے، اگر کوئی انفرادی طور پر الگ سے چلتے چلتے یا کہیں بیٹھ کر دعا مانگے تو نصوص عامہ کے تحت یہ جائز ہے۔
ففی البزازیۃ علی ھامش الہندیۃ: لایقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازہ لأنہ دعاء مرۃ لأن اکثرھا دعا الخ (۴/۸۰)
وفی مرقاة المفاتيح ولا يدعو للميت بعد صلاة الجنازة لأنه يشبه الزيادة في صلاة الجنازة. (3/ 1213) واللہ أعلم بالصواب!