۱۔ کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی مر جائے تو اس کی تعزیت کیلۓ ایک مہینے یا ایک سال کے بعد چلے جائیں یا ان کی تعزیت کیلۓ عید کے دن چلے جائیں جو خوشی کا دن ہے اور خوشی کے دنوں میں چاہیۓ کہ ان سے مصیبت دور ہو جائے اور ان کے لئے دعا کرنا اور ورثاء کو یاد دلانا کیسا ہے؟
2۔ میت کے ہاں جا کر قرآن پڑھنا اور ان کیلۓ دعا کرنا کیسا ہے ؟قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
سوال میں مذکور اوقاتِ تعزیت کا "قرون ثلاثہ مشہود لہا بالخیر "سے کوئی ثبوت نہیں ، یہ بدعتِ محض ہے جس سے احتراز لازم ہے ،البتہ کسی کے انتقال پر اس کے اہلِ خانہ سے تین دن تک تعزیت کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، جبکہ اس کے بعد مکروہ ہے،لیکن اگر کوئی شخص اس موقع پر موجود نہ ہو ، اُسے بعد میں معلوم ہو تو وہ تین دنوں کے بعد بھی تعزیت کرسکتا ہے۔
2۔مروجہ قرآن خوانی جو کئی غیر شرعی امور کو متضمن ہے ، اس کا کوئی جواز نہیں ، البتہ اگر پڑھنے والے محض ایصالِ ثواب کیلۓ پڑھتے ہوں ، دنیاوی منافع وغیرہ کا حصول مقصود نہ ہو اور پڑھنے کے بعد میت کیلۓ ایصالِ ثواب کر دیں تو یہ عمل بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے، بشرطیکہ یہ مجلس رسوم و منکرات سے خالی ہو۔
فی الفتاوی الھندي: التعزية لصاحب المصيبة حسن ، و روى الحسن بن زياد إذا عزى أهل الميت مرة فلا ينبغي أن يعزيه مرة أخری و وقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام و يكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها اھ(1/167)۔
و فی الدر المختار : و أولها أفضل . و تكره بعدها إلا لغائب . و تكره التعزية ثانيا اھ(2/241)۔
و فی الشامیة : (قوله و تكره بعدها) لأنها تجدد الحزن منح و الظاهر أنها تنزيهية ط (قوله إلا لغائب) أي إلا أن يكون المعزي أو المعزى غائبا فلا بأس بها اھ(2/241)۔
فی حاشية ابن عابدين : و في البزازية : و يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع و نقل الطعام إلى القبر في المواسم ، و اتخاذ الدعوة لقراءة القرآن و جمع الصلحاء و القراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص . و الحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره . و فيها من كتاب الاستحسان : و إن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا اهـ و أطال في ذلك في المعراج . و قال : و هذه الأفعال كلها للسمعة و الرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى . اھ(2/ 240، 241)۔