فوتگی کے بعد میت کے گھر والوں کے لیے باہمی رضامندی سے کمیٹی کے ذریعے اجتماعی کھانا بنا کر دینا اور بعد میں خرچ شدہ رقم حسب استطاعت فی کس تقسیم کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ اس طرح چند گھرانوں کی صورت میں کیا حکم ہے؟ حالانکہ اکثر گھرانے اس طریقے سے متفق ہیں۔
اہلِ میت کے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے لئے مستحب ہے کہ وہ ایک دن ایک رات کا کھانا تیار کر کے اہلِ میت کے یہاں بھیجیں اور کمیٹی کے ذریعہ مذکور طریقہ اپنانا بھی درست ہے، لیکن کمیٹی والے چندہ جمع کرنے میں کسی پر زبردستی نہ کریں اور لوگوں کی مالی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی مناسب ترتیب بنائیں اس کے بعد اجتماعی رقم خرچ کرنے میں اعتدال سے کام لیں اور زیادہ فضول خرچی سے بچیں۔
ففی سنن الترمذي: عن عبد الله بن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر، قال النبي صلى الله عليه وسلم: اصنعوا لأهل جعفر طعاما، فإنه قد جاءهم ما يشغلهم. (2/ 314)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله - صلى الله عليه وسلم - «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر و معروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ. (2/ 240) واللہ أعلم بالصواب!