کیا فرماتے ہیں علماءِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پیر کی قبر پر جانے اور وہاں پر چراغ جلانے کی کیا حقیقت ہے؟
مذکور عمل سے شریعتِ مطہرہ نے منع فرمایا ہے، نیز یہ اہلِ بدعت، جہلاء اور روافض وغیرہ کے شعائر وغیرہ میں سے ہے، لہٰذا اس حتراز لازم ہے۔
ففی السنن الكبرى للنسائي: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ»(2/ 469)۔
وفی سنن النسائي: عن ابن عباس قال: «لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - زائرات القبور، والمتخذين عليها المساجد والسرج» (4/ 94)۔
وفی الدر المختار: واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم و الشمع و الزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ما لم يقصدوا صرفها لفقراء الأنام وقد ابتلي الناس بذلك اھ (2/ 439)۔