کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں:
(۱) تدفین کے بعد میت کے گھر کھانا وغیرہ کھانا کیسا ہے؟ (۲) ایصال ثواب کیلئے ہر جمعرات کو کھانا دینا کیسا ہے؟ (۳) تیجہ، دسواں، چالیسواں وغیرہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ مذکورہ سوال کے جوابات دیکر عند اللہ ماجور ہوں۔
مذکورہ تینوں اُمور کا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لئے انہیں باعث اجر و ثواب یا لازم سمجھ کر بجا لانا بلاشبہ بدعت ہے ان مروّجہ امور سے احتراز لازم ہے، البتہ بطورِ تعزیت دور دراز سے آنے والے مہمانوں کیلئے اہل میت کے اقرباء یا پڑوسی وغیرہ ایک دن کے کھانے وغیرہ کا اہتمام کرلیں تو یہ کھانا بلاشبہ جائز اور درست ہے، اسی طرح کسی خاص دن اور وقت و مقام کی تعیین و تخصیص اور مروجہ بدعات کا ارتکاب کیے بغیر محض ایصالِ ثواب کیلئے قرآن خوانی یا آیت کریمہ وغیرہ کا ختم کیا جائے تو یہ بھی باعث اجر و ثواب ہے، ورنہ انفرادی طور پر ایصالِ ثواب کیا جائے۔
وفی الشامیۃ: وقال ایضًا ویکرہ اتخاذ الضیافۃ من الطعام من اہل المیت لانہ شرع فی السرور لا فی السرور۔ وھی بدعۃ مستقبحۃ۔ وروی الامام احمد وابن ماجۃ باسناد صحیح عن جریر بن عبد اللہؓ قال کنا نعد الاجتماع إلی اہل المیت وصنعھم الطعام من النیاحۃ، وفی البزازیۃ ویکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاوّل والثالث وبعد الا سبوع ونقل الطعام الی القبر فی المراسم۔ واتخاذ الدعوۃ لقراءۃ القرآن وجمع الصلحاء والقُراء للختم او لِقراءۃ سورۃ الانعام أو الاخلاص۔ الخ (ج٢، ص٢٤٠) واللہ اعلم