کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل جو لوگ گھروں میں عورتوں کو جمع کرکے قرآن خوانی کرتے ہیں پھر اس کے بعد کھانا کھلاتے ہیں یہ جائز ہے یا ناجائز؟ السائل
اگر کسی مردے کے ایصالِ ثواب کی خاطر ، بغیر کسی بلاوے اور انتظام کے، اپنے طور پر کچھ خواتین جمع ہوجائیں اور اس جمع ہونے کو ضروری نہ سمجھا جاتا ہو اور شرکت نہ کرنے والوں پر کسی قسم کی کوئی نکیر اور اعتراض بھی نہ کیا جاتا ہو اور اس مکان یا گھر میں غیر محرموں کے ساتھ کسی قسم کا کوئی اختلاط بھی نہ کیا جاتا ہو تو ایسی قرآن خوانی بلاشبہ جائز اور درست ہے، مگر عام طور پر ان امور کا لحاظ نہیں رکھا جاتا اور قرآن خوانی کی مجلس بھی مروّجہ رسوم اور بدعات سے خالی نہیں ہوتی ہے اس لئے ان رسوم و بدعات کے ساتھ قرآن خوانی سے احتراز کرنا چاہئے۔
فی الشامیۃ: ویکرہ إتخاذ الطعام فی الیوم الاوّل و الثالث و بعد الاسبوع و نقل الطعام الی القبر فی المواسم واتخاذ الدعوۃ لقراء ۃ القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم او لقراء ۃ سورۃ الانعام او الاخلاص والحاصل ان إتخاذ الطعام عند قراء ۃ القرآن لاجل الاکل یکرہ وفیہا من کتاب لاستحسان وان اتخذ طعامًا للفقراء کان حسنًا و اطال فی ذالک فی المعراج وقال وہذہ الافعال کلہا للسمعۃ والریاء فیحترز عنہا لانہم لا یریدون بہا وجہ اﷲ تعالٰی۔ اھـ (ج۲، ص۲۴۰) ۔