کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ (۱) ہمارے ہاں یہ رواج عام ہے کہ جب میت اُٹھاکر قبرستان کی طرف لے جاتے ہیں تو جنازہ سے آگے آگے امام مسجد یا اس طرح کا کوئی بزرگ آدمی چالیس قدم شمار کرتا ہے یہ بطورِ ثواب کیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس طرح میت کو گھر سے نکالنے میں چالیس قدم شمار کرنے کا قرآن و حدیث میں ثبوت ہے یا کہ نہیں؟ برائے کرم بحوالہ جواب عنایت فرمائیں۔
(۲) ایک دوسرا رواج یہ عام ہے کہ میت کے ساتھ قرآن مجید اور کچھ پیسے رکھے جاتے ہیں جنازہ پڑھنے کے بعد چند آدمی دائرہ بناکر کھڑے ہوتے ہیں اور قرآن مجید کو گھمایا جاتا ہے اس کے بعد وہ پیسے تقسیم کئے جاتے ہیں، اور یہ بھی بطورِ ثواب کیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ ایسا کرنا قرآن اور حدیث سے ثابت ہے کہ نہیں؟ برائے مہربانی بحوالہ جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ
(۱) حدیث میں چالیس قدم تک میت کو لے جانے اور کندھا دینے کی فضیلت وارد ہوئی ہے البتہ کسی متعین شخص کا کھڑے ہوکر شمار کرنا اس کا کہیں ثبوت نہیں۔
(۲) قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر میں اس رسم کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، لہٰذا یہ بدعت ہے، جو واجب الترک ہے۔ …… واﷲ اعلم!
قال العلامۃ الحصکفیؒ:(واذ حمل الجنازہ وضع مقدمہا علی یمینہ) عشر خُطوات لحدیث ’’من حمل الجنازۃ اربعین خطوۃ کفرت عنہ اربعین کبیرۃ‘‘۔
قال العلامۃ ابن عابدینؒ:(قولہ لحدیث من حمل الخ) الاولی تاخیرہ عن قولہ ثم مقدمہا ثم موخرہا۔ والحدیث المذکور ذکرہ الزیلعی ونقلہ فی البحر عن البدائع وفی شرح المنیۃ ویستحب ان یحملہا من کل جانب اربعین خطوۃ للحدیث المذکور۔رواہ ابوبکر النجار(رد المحتار: ج۲، ص۲۳۱)-