مرحوم کی نماز جنازہ کے بعد حیلہ کرنے کا قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں کیا حکم ہے ؟ کچھ لوگ دائرے میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور قرآن مجید تھام کر ایک آدمی کچھ دعا کرتا ہے ، پھر قرآن مجید ساتھ والے آدمی کو دیتاہے، جو اس سے لیکر دائرے میں کھڑے باقی لوگوں کے پاس فرداً فرداً لے جاتا ہے اور ہر آدمی قرآن مجید چوم کر اگلے آدمی کو دیتا ہے اور دعا کی جاتی ہے ، کہ اس قرآن مجید کے صدقے مرحوم کی بخشش ہو جائے ۔
حیلۂ اسقاط مروّجہ عوام فی زمانہ بلاشبہ بدعت ہے، اولاً اس لیے کہ اگر یہ کوئی خیر ہوتا تو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ اس کے لیے زیادہ احق تھے، کہ ان کی شفقت عام مومنین کے ساتھ بہت بڑھی ہوئی تھی، مگر با وجود اس کے ایسے لوگوں کے ساتھ جن کے ذمہ نماز روزہ وغیرہ قضاء واجب تھے، ان حضرات نے یہ حیلہ تجویز نہیں فرمایا، علاوہ ازیں بعض فقہاء نے جو کہیں اس کی اجازت دی ہے، وہ اس وقت ہے جب کہ اتفاقاً کسی آدمی کے لیے ضرورت پڑ جائے اور فساد عقیدہ عوام نہ ہو اور رسم بدعت نہ پڑ جائے، ورنہ جب منکرات پر مشتمل ہو جاوے تو پھر اس کا ترک باتفاق ضروری ہو جاتا ہے، جیسا کہ ہمارے زمانہ میں طرح طرح کے منکرات اس میں پیدا ہو گئے ہیں۔ ثانیاً تملیک فقرا اس طرح کی جاتی ہے کہ اس سے تملیک ہی متحقق نہیں ہوتی۔ ثالث اس رسم کے پڑ جانے سے عوام دلیر ہو جاتے ہیں کہ نماز روزہ سب حیلہ اسقاط کے ذریعہ ساقط ہو جائیں گے۔ رابعاً لوگوں نے اس کا ایسا التزام کر لیا ہے کہ اس کو ایک مستقل عمل جہیز و تکفین میں سے سمجھتے ہیں، جو یقیناً بدعت ہے۔
ففى مشكاة المصابيح: عنه: قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم (إلی قوله) فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة» . رواه أحمد وأبو داود والترمذي اھ (1/ 58)