تدفین

قبر میں میت کو قبلہ رو کردینے کا درست طریقہ

فتوی نمبر :
11322
| تاریخ :
2011-03-22
عبادات / جنائز / تدفین

قبر میں میت کو قبلہ رو کردینے کا درست طریقہ

السلام علیکم! قبر میں عام طور پر مردے کو سیدھا لِٹا کر چہرہ قبلہ رخ کر دیا جاتا ہے، کیا یہ طریقہ درست ہے یا مردہ کو پہلو کے بل لٹایا جائے کہ اس کا چہرہ قبلہ کی طرف ہو یہ زیادہ صحیح طریقہ ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کے پورے بدن کو کسی شئی کے ساتھ سہارا دیکر داہنے پہلو پر قبلہ رو کرنا چاہیے، صرف منہ قبلہ رو کر دینا کافی نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الدر المختار: (ويوجه إليها) وجوبا، وينبغي كونه على شقه الأيمن اھ (2/ 236)
وفی الشامیہ:قُلْت: وَوَجْهُهُ أَنَّ ظَاهِرَهُ التَّسْوِيَةُ بَيْنَ الْحَيَاةِ وَالْمَوْتِ فِي وُجُوبِ اسْتِقْبَالِهِ، لَكِنْ صَرَّحَ فِي التُّحْفَةِ بِأَنَّهُ سُنَّةٌ كَمَا يَأْتِي عَقِبَهُ(ج:2،ص:236)
وفى الفتاوى الهندية: ويوضع في القبر على جنبه الأيمن مستقبل القبلة، كذا في الخلاصة اھ (1/ 166)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز علی نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 11322کی تصدیق کریں
0     894
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات